چینی باشندوں پر حملہ: تفتیشی حکام نے حملہ آور سے منسلک ویڈیو حاصل کرلی
کراچی میں چینی باشندوں پر حملے کی تفتیش
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جناح ٹرمینل کےقریب چینی باشندوں پر حملے کے تفتیشی حکام نے حملہ آور سے منسلک ویڈیو حاصل کرلی، جس میں حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا۔ تفتیشی کاروں نے حملہ آور کے ایک رشتہ دار کو بھی حراست میں لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
حملے کی تحقیقاتی تفصیلات
روزنامہ جنگ کے تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو مبینہ طور پر حملہ آور کی جانب سے بنائی گئی، جو ممکنہ طور پر دھماکے سے کچھ دیر پہلے کی ہے۔ تفتیشی حکام نے حملہ آور کے ساتھی کی تفصیلات بھی حاصل کرلیں، جبکہ تفتیش کاروں نے حملہ آور کے ایک رشتہ دار کو بھی ملیر سے حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: میٹنگ ختم ہوئی، ایک فقرے نے دماغ گھما کر رکھ دیا، دل میں سوچ چکا تھا کہ کبھی میرے ساتھ اونچ نیچ کی تو منہ توڑ جواب دونگا، چائے پیئے بغیر باہر آ یا
حملہ آور کی حرکات
تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آور نے حملے کے روز دن کے 12 بجے ہوٹل کا کمرہ چھوڑا۔ وہ ہوٹل سے ملیر میں اپنے رشتہ دار کے گھر گیا اور رات کے وقت گاڑی لے کر ماڈل کالونی سے ہوتے ہوئے حملے کے مقام پر پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے جنید صفدر کی شادی پر کھانا نہیں کھایا، صرف سلاد پر گزارا کیا، عظمیٰ بخاری
پچھلے واقعات
ذرائع کے مطابق حملہ آور گزشتہ سال 3 دسمبر کو بھی صدر ریگل چوک کے قریب ہوٹل میں رکا تھا۔ ہوٹل میں حملہ آور سے اس کا دوست ملنے آیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق دونوں افراد نے کمرے میں تقریباً 4 گھنٹے قیام کیا اور پھر چیک آؤٹ کر دیا۔
دھماکے کے نتائج
چھ اکتوبر کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور غیر ملکی سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے، جبکہ دھماکے کے باعث متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔








