ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف اسلام آباد میں وکلاء کی ہڑتال اور احتجاجی ریلی
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا بائیکاٹ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں کا 3 روزہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ
ہڑتال کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار، اور ڈسٹرکٹ بار نے آج سے تین روزہ ہڑتالی کال دے رکھی ہے، اور وکلاء صرف ہنگامی کیسوں میں پیش ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عاقب جاوید وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مقرر
پولیس کی پابندیاں
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی بھی لگادی گئی ہے، جس کے بعد وکلاء نے کینٹین پر بیٹھے پولیس اہلکاروں کو نکال دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑی بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت خیبرپختونخوا کے 5 اراکین اسمبلی اشتہاری قرار
وکلاء کا احتجاج
وکلاء نے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر احتجاج کیا، صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر کی قیادت میں وکلاء وہاں پہنچے۔ وکلاء نے احاطہ کچہری کے اندر ریلی نکالی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی پولیس کی بڑی کارروائی، شہر سے 56غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا
وکلاء بشمول سپریم کورٹ بار کے عہدیداران
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی، ڈاکٹر بابر اعوان اور دیگر وکلاء نے احتجاج میں شرکت کی، جنہوں نے "وکلاء کو انصاف دو" کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
ڈاکٹر بابر اعوان کا بیان
اس موقع پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ "پہلے جج سڑک پر نکلے، اب وکیل سڑکوں پر نکلے ہیں۔ وکلاء کے خلاف ریاست گردی جاری ہے، جو سوسائٹی کیلئے نقصان دہ ہے۔" وکلاء نے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر احتجاج ختم کر دیا۔








