ارجیت سنگھ کی گلوکاری چھوڑنے کی وجہ سامنے آگئی۔
اریجیت سنگھ کی گلوکاری سے کنارہ کشی
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کے نامور پلے بیک سنگر اریجیت سنگھ نے گلوکاری سے کنارہ کشی کی وجہ بالی ووڈ کے غیر منصفانہ معاوضے کے نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ فنکاروں کو مار رہے ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز شریف کا حالیہ دورہ جاپان انتہائی کامیاب رہا، مستقبل قریب میں مثبت اثرات ظاہر ہوں گے، شیخ قیصر محمود
مداحوں اور انڈسٹری کا حیران ہونا
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اریجیت سنگھ کی جانب سے بطور پلے بیک سنگر پرفارم کرنا چھوڑنے کے کے فیصلے نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پوری فلم انڈسٹری کو حیران کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ایک ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی تمام ریاستوں کی اجتماعی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور ہوگی، خلیج تعاون کونسل
بھارتی کلاسیکی موسیقی کی جانب رجوع
اریجیت سنگھ اپنی سولڈ آؤٹ پرفارمنسز اور تقریباً تمام بڑی بالی ووڈ فلموں میں گانوں کے باعث عروج پر پہنچے مگر اپنے کیریئر کے عین عروج پر اریجیت نے فلمی دنیا سے پیچھے ہٹ کر بھارتی کلاسیکی موسیقی میں اپنی دلچسپی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کے صدر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
غور و خوض کا وقت
اگرچہ یہ اعلان بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا، تاہم اریجیت اس فیصلے پر کافی عرصے سے غور کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی چینی سائنس دان نے دو بچیوں کے ڈی این اے سے چھیڑچھاڑ کی؟
اپنی شناخت کا احساس
مختلف انٹرویوز میں انہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی شناخت اور آواز سے ایک وقت میں عدم وابستگی محسوس ہونے لگی، یہاں تک کہ ان کا اپنا نام بھی انہیں ناگوار لگنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک مارکیٹ پلیس پر انسانی ہڈیوں کی خریدو فروخت پر خاتون گرفتار، کھوپڑی کتنے میں بیچ رہی تھی؟
شہرت کا بوجھ
2023 میں دی میوزک پوڈکاسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اریجیت نے اس دور کو یاد کیا جب شہرت ان پر بوجھ بننے لگی تھی۔
اریجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میں اپنے نام اریجیت سنگھ سے خود کو جوڑتا تھا۔ مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوا، ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اپنا نام سن کر ہی کوفت ہونے لگتی تھی۔ ہر طرف لوگ میرا نام پکار رہے ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ثانیہ سعید نے پہلی بار اپنی طلاق پر خاموشی توڑ دی
گانے سننے میں مشکل
انہوں نے کہا کہ شروع میں یہ سب بہت بھاری محسوس ہوتا تھا، مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ نام اب میں نہیں رہا، بلکہ لوگوں کی بنائی ہوئی ایک شبیہ ہے، اسے سن کر مجھے چڑ ہونے لگتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے اپنے ہی گانے سن کر کوفت ہوتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوتا، میں بس نظرانداز کر دیتا ہوں، پہلے میں اس بات پر بہت سخت تھا کہ اپنے گانے نہ سنوں، یہاں تک کہ گھر میں کوئی میرا گانا نہیں چلاتا تھا، بعد میں میں اس معاملے میں کچھ نرم پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ جاری کردی گئی
ادائیگی کے طریقہ کار کی تنقید
اریجیت سنگھ نے موسیقی کی صنعت میں غیر منصفانہ ادائیگی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل آخرکار فنکاروں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔
محنت کا مناسب معاوضہ
ادائیگی کے بغیر بھی اریجیت نے دعویٰ کیا کہ بیشتر فنکاروں کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ باتیں واضح ہونا چاہیے، یا تو کیے گئے کام کا مناسب معاوضہ دیں، یا پھر کام ہی نہ دیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کی محنت کے تناسب سے ادائیگی نہیں ہوتی۔








