بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان
نیپرا کی بجلی قیمتوں میں اضافے کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 48 پیسے اضافے کی درخواست پر نیپرا نے سماعت مکمل کرلی۔ صنعتی صارفین نے طویل المدتی تین سالہ پیکج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کراس سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ کردیا۔ دسمبر کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ سی پی پی اے نے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت بجلی کی کھپت میں بائیس فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ دسمبر میں انڈسٹری نے دو ارب یونٹ بجلی استعمال کی۔ سولر کی وجہ سے بجلی کھپت میں کمی ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں کامیابیاں پاک فضائیہ کی صلاحیت کا ثبوت ہیں، ایئر چیف مارشل
صنعتی صارفین کے مطالبات
صنعتی صارفین نے حکومتی ریلیف پیکج کو ادھورا قرار دیتے ہوئے کہا کہ 13 سینٹ بجلی کا ریٹ ہے۔ پیکج سے زیادہ فرق نہیں پڑا۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کا اطلاق کے ای حکومت کے صارفین پر بھی ہوگا۔ صنعت کروسی سبسڈی بھی دے رہی ہے۔ تین روپے تیئس پیسے گردشی چارج کا سود بھی ادا کر رہے ہیں۔ صنعت کی وجہ سے گردشی قرض میں اضافہ نہیں ہوا، خطے میں صنعتی یونٹس کیلئے بجلی کا نرخ پانچ سینٹ ہے۔ ہمیں بجلی کا نرخ تیرہ سینٹ میں پڑ رہا ہے۔ حکومت کراس سبسڈی ختم کرے تاکہ بجلی نو سینٹ پر آجائے۔
یہ بھی پڑھیں: فوری طور پر بند سڑکوں کو کھول دیا جائے، علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ابھی تک فرار ہیں: محسن نقوی
نیپرا کا فیصلہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ممکنہ تبدیلی
نیپرا نے دسمبر کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمت میں اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی ہے۔ فیصلہ ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ ابتدائی ورکنگ کے مطابق جہاں پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، وہیں ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میری ساری توجہ لوگوں کو مفت علاج کی فراہمی پر مرکوز ہے: مریم نواز
پیٹرولیم انڈسٹری کی محتاط پیشگوئی
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم انڈسٹری نے قیمتوں سے متعلق ورکنگ اوگرا کو ارسال کردیا ہے۔ ابتدائی حساب کتاب کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 36 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 45 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔
فیصلے کا انتظار
اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کل ورکنگ پیپر حکومت کو بھجوا دے گی، جس کے بعد حکومت کو ٹیکسز اور لیوی میں رد و بدل کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر ٹیکسز اور لیوی میں کمی کی گئی تو قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔








