لاہور میں بسنت منانے کے خلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
بسنٹ منانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پورے صوبے کے بجائے صرف لاہور میں بسنت منانے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور کملا ہیرس کی مسلمان ووٹرز کی حمایت کیلئے بھاگ دوڑ
درخواست گزار کا مؤقف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی سرپرستی میں بسنت منانے کے لیے قانون بنایا گیا ہے اور حکومتی مشینری صرف لاہور میں بسنت منانے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر شہروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سمندر ہمیشہ سے نیلے نہیں تھے بلکہ اربوں سال پہلے کیسے دکھائی دیتے تھے؟ سائنسدانوں کا نئی تحقیق میں انکشاف
آئینی حقوق اور درخواست کی بنیاد
وکیل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور عوام کا پیسہ صرف ایک شہر میں بسنت فیسٹیول پر خرچ کیا جا رہا ہے، لہٰذا حکومت کو بلا تفریق پورے صوبے میں بسنت فیسٹیول کے لیے اقدامات کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈسکوز سپورٹ یونٹس کی کارروائیاں، 289 مقامات پر بجلی چوری پکڑی گئی، مقدمات درج
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا اور سپیشل سیکرٹری ہوم کو تین فروری کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: میٹنگ ختم ہونے کے بعد منسٹر کا کہنا: “کیا نوٹ کر رہے تھے؟”
پی ٹی آئی ایم پی اے کی درخواست
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر بھی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ گانے نک دا کوکا میں فحاشی یا کوئی قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں، تاہم حکومت نے بلاجواز اسے فحش گانوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں: بلاول بھٹو زرداری
پابندیاں اور وکیل کا بیان
وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر والی پتنگیں اڑانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جو غیر ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی ہوٹل میں آتشزدگی کا مقدمہ مالک سمیت 6 افراد کیخلاف درج
عدالت کی ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کا تو معلوم نہیں، لیکن میں خود یہ گانا گا سکتا ہوں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کی آواز تو ویسے بھی کافی سریلی ہے جبکہ پابندی صرف فحش گانوں پر لگائی گئی ہے۔
نوٹس کا اجرا
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں درخواستوں پر 2 فروری تک جواب طلب کر لیا۔








