بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشتگردی ہو رہی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشتگردی ہو رہی ہے، ریاست اس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دہشتگردوں نے بلوچستان کے 12 اضلاع میں بیک وقت حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ ختم کرنے کیلئے ہمیں اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی لانا ہوگی: عظمیٰ بخاری
دہشت گردی کی حقیقت
خواجہ آصف کا اپنے بیان میں کہنا تھا " بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر پوری قوم کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ کسی “حقوق کی جدوجہد” کا نام نہیں، یہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی ہے جس کا ہدف پاکستان بھی ہے اور بلوچستان کے اپنے لوگ بھی۔ یہ عناصر نہ ترقی برداشت کرتے ہیں نہ امن، اسی لیے وہ مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ترقی کے منصوبے اور روزگار کے مواقع تباہ کرنا چاہتے ہیں، اور سی پیک جیسے منصوبوں کے خلاف سازش کرتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ٹرینوں کے کرائے نہ بڑھانے کا فیصلہ
مجرمانہ نیٹ ورکس
خواجہ آصف نے بتایا کہ "یہ گروہ منظم مجرمانہ نیٹ ورکس، منشیات پر چلنے والی معیشت، بھتہ خوری، اور اسمگلنگ سے مالی مدد لیتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کی تشہیر اور نوجوانوں کی بھرتی کرتے ہیں۔"
ریاست کا عزم
وزیر دفاع نے واضح کرتے ہوئے کہا " ریاست پرعزم ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال بلند ہے، اور ہم دہشت گرد، سہولت کار اور بیرونی ہینڈلرز، سب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔"








