بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کیخلاف سختی کریں گے: وزیر اعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ کا جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردعمل
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر اداکارہ منزہ عارف کا نئی شادی شدہ لڑکیوں کو جلد بچے پیدا کرنے کا مشورہ
سانحہ گل پلازہ کی تشہیر پر وزیر اعلیٰ کی حیرت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں حیرت ہوتی ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ ان کا اعتراض ان لوگوں پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ہفتے میں ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
متاثرین کے لئے امداد کا اعلان
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سانحے کے بعد حکومت سندھ نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا۔ ہم نے 26 گھروں میں جاکر لوگوں کو چیک دیے، لیکن میڈیا کو ساتھ نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو ستارہ امتیاز کیلئے نامزد کر دیا گیا
دھرنے اور احتجاج کی سختی کا فیصلہ
جماعت اسلامی کے دھرنے اور حافظ نعیم الرحمان کی سندھ حکومت پر تنقید کے بارے میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں، وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے۔ عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے حافظ نعیم کو دعوت دی کہ وہ صوبائی اسمبلی میں آئیں یا اپنی سیٹ خالی کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے تک کا اضافہ، سابق وفاقی وزیر عمر ایوب کی جون 2022 کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔
شہر کی سڑکوں کی بلاک ہونے کی مشکلات
مراد علی شاہ نے کہا کہ کل شارع فیصل میں تین چار گھنٹے تک بلاک رہا جو نہیں ہونا چاہیے۔ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اب وہ بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کو ہدایت
انہوں نے مزید کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا دینے کا بیان سن کر وہ مایوس ہیں۔ انہیں اپنی عوام کا خیال رکھنا چاہیے، یا پھر اپنی سیٹ چھوڑ دیں تاکہ ان کے حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم نہ رہیں۔








