بلوچستان میں فتنے بے نقاب، ریاست کا فیصلہ کن وار
بلوچستان کی صورتحال
بلوچستان ایک طویل عرصے سے تشدد، بادعتی اور بیرونی و اندرونی سازشوں کی زد میں رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں جس نوعیت کی منظم دہشت گردی اور اس کے جواب میں ریاستی اداروں کی ہمہ گیر کارروائیاں سامنے آئی ہیں، وہ اس تنازعے کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے پانی اور وسائل کو لوٹا جارہا ہے، چولستان میں کینال بنانا ناانصافی ہے: لطیف پلیجو
دہشت گردی کے مناظر
12 مختلف مقامات پر بیک وقت حملوں کی کوشش، شہری آبادی کو نشانہ بنانا، مزدور خاندانوں کا قتل اور ساتھ ہی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت اور مربوط ردِعمل، یہ سب مل کر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی محض مقامی ناراضی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کا 16 سالہ نوجوان کچے کے ڈاکوؤں سے ہنی ٹریپ، تاوان کا مطالبہ
ریاستی بیانیے کی حقیقت
ریاستی بیانیے میں جن عناصر کو ''فتنہ الہندوستان'' کہا جا رہا ہے، ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان گروہوں کا ہدف صرف سکیورٹی فورسز نہیں بلکہ وہ عام شہری، مزدور طبقہ اور ترقیاتی عمل بھی ہے جو بلوچستان کو باقی ملک سے جوڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
حساس مقامات پر حملے
گوادر جیسے حساس اور اہم شہر میں مزدور خاندان کے افراد کو نشانہ بنانا محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے کہ جو بھی روزگار، ترقی یا استحکام کی علامت بنے گا وہ ان کے نشانے پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری صنعت میں ٹیلنٹ کی بجائے ظاہری خوبصورتی کو اہمیت ملتی ہے: عدنان شاہ ٹیپو
مسلح دھڑوں کی حقیقت
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس سے منسلک مسلح دھڑے برسوں سے خود کو ایک ''مزاحمتی تحریک '' کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں، مگر ان کی عملی کارروائیاں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں 9 اشیاء ضروریہ سستی اور 18 مہنگی ہوگئیں، ہفتہ وار رپورٹ جاری
عسکری کارروائیاں اور ان کے اثرات
حالیہ واقعات میں یہ حقیقت پوری شدت سے سامنے آئی ہے کہ ریاست اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر فیصلہ کن کارروائی کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ عناصر اتنے منظم، مسلح اور ہم آہنگ کیسے ہو گئے؟
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ، آئندہ حکمت عملی سے متعلق اہم ہدایت کردی
بیرونی قوتوں کا کردار
یہاں وہ پہلو سامنے آتا ہے جسے سکیورٹی ادارے بیرونی ایما اور سرپرستی سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ آپ کا ابا ہوگا
خواتین کا استعمال
کالعدم بی ایل اے کی مسلح کارروائیوں میں ایک تشویشناک پہلو خواتین کا استعمال ہے، خصوصاً خودکش حملوں کے تناظر میں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ کے روز مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کہاں تھے؟
نفسیاتی اثرات
دنیا بھر میں شدت پسند تنظیمیں اس طریقے کو اختیار کرتی ہیں کہ اس سے معاشرے میں خوف، صدمہ اور غیر یقینی کی فضا زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔
بنیادی مسائل اور حل
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان کا مستقبل تشدد میں نہیں بلکہ امن، ترقی اور شمولیت میں ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔








