بٹ کوائن کو کیا ہوا؟
کرپٹو کرنسی کی حالیہ گراوٹ
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا کی معروف ترین کرپٹو کرنسی اکتوبر میں بننے والی اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 44 فیصد گر چکی ہے اور جمعرات کو 15 ماہ بعد پہلی بار 70 ہزار ڈالر سے نیچے آ گئی۔ اگرچہ کرپٹو مارکیٹ میں اس نوعیت کی گراوٹ کوئی نئی بات نہیں اور ماضی میں اس سے کہیں بڑے کریش دیکھے جا چکے ہیں، مگر حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہ مندی ایسے وقت میں آئی ہے جب بظاہر بِٹ کوائن کے حق میں حالات ہونے چاہئیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تکالیف سانجھی تھیں، کوئی بناوٹ نہ تھی،ہماری دوستی مثالی تھی اب ایسی دوستی خواب رہ گئی ہے،ماضی انسان کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے
بِٹ کوائن: "ڈیجیٹل گولڈ" کی حیثیت
سی این این کے مطابق کرپٹو کے حامی طویل عرصے سے بِٹ کوائن کو “ڈیجیٹل گولڈ” قرار دیتے آئے ہیں، یعنی ایسا محفوظ اثاثہ جہاں غیر یقینی حالات میں سرمایہ محفوظ رکھا جا سکے۔ اس منطق کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں بِٹ کوائن کو فائدہ ہونا چاہیے تھا۔ دنیا بھر میں جغرافیائی اور سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، یورپی اتحادیوں اور کینیڈا سے گرین لینڈ کے معاملے پر کشیدگی ہے، اور جنوبی کوریا پر زیادہ ٹیرف لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت نے اسٹاک مارکیٹس میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک نئی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، ترک صدر
سونے کی قیمتوں میں اضافہ
مارکیٹ میں خوف کی سطح بلند ہے، جس کا فائدہ سونے کو ہوا ہے۔ سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور حال ہی میں فی اونس 5,500 ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ مگر اس تمام غیر یقینی صورتحال کے باوجود بِٹ کوائن اس رجحان کا حصہ نہیں بن سکا اور رواں سال اب تک اس کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد کمی آ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کو پلاٹ دینے کیلئے منصوبہ طلب
نقصانات اور فروخت کا رجحان
معروف سرمایہ کار مائیکل بری کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے اور چاندی میں شدید اتار چڑھاؤ کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بِٹ کوائن میں نقصان اٹھانے والے سرمایہ کار اپنے نقصانات پورا کرنے کے لیے دھاتیں فروخت کر رہے ہیں۔ اس گراوٹ کے ساتھ ہی بِٹ کوائن وہ تمام فائدہ بھی کھو چکا ہے جو نومبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے بعد اسے ملا تھا، جب کرپٹو سرمایہ کاروں نے ان کے ریگولیٹری نرمی کے وعدوں پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان علی آغا نے بھارت سے میچ ہارنے کی وجہ بتا دی
بِٹ کوائن کی حیثیت پر سوالات
ماہرین کے مطابق اس نئی کرپٹو مندی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار اب بِٹ کوائن کو محفوظ پناہ گاہ سمجھنے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں “رسک آف” فضا کے باعث سرمایہ کار خریداری کے بجائے فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سونے اور بِٹ کوائن کے درمیان واضح فرق، جہاں سونا اکتوبر سے اب تک 24 فیصد بڑھا ہے اور بِٹ کوائن 44 فیصد گرا ہے، اس سوچ کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت میں 1500 روپے کمی
سرمایہ کاروں کے خدشات
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ ٹریژری کے پاس کرپٹو مارکیٹ کو مستحکم کرنے کا اختیار نہیں، نے بھی سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ بِٹ کوائن ETFs وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی، جبکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں کمی کے باعث ٹریڈنگ حجم بھی گھٹ گیا ہے۔
ماضی کے تجربات اور مستقبل کی امیدیں
تاہم ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ کرپٹو مارکیٹ میں اس نوعیت کے بحران ماضی میں بھی آتے رہے ہیں۔ 2014، 2018، اور پھر 2021 اور 2022 میں بڑے کریش کے بعد بِٹ کوائن نے بالآخر واپسی کی۔ اسی لیے بعض سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ یہ مندی بھی مستقل نہیں اور وقت کے ساتھ حالات بدل سکتے ہیں۔








