کچے میں جاری ’’نجات مہران ‘‘ آپریشن کے دوران 113 مقابلوں میں 27 نامی گرامی ڈاکو مارے جا چکے ہیں، اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں، آئی جی سندھ
کراچی میں مغوی ڈاکوؤں کی موجودگی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقوں میں اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور پاکستان کو غزہ میں صیہونی مظالم روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، علی خامنہ ای کا شہباز شریف سے ملاقات میں اظہار خیال
آپریشن 'نجات مہران' کی تفصیلات
سینٹرل پولیس آفس میں کچے کے علاقوں میں یکم جنوری سے جاری آپریشن 'نجات مہران' سے متعلق پریس کالنفرنس کرتے ہوئے، آئی جی سندھ نے بتایا کہ مغویوں کے بارے میں سو فیصد نہیں کہا جاسکتا، آپریشن مکمل ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا
آپریشن کے نتائج
آپریشن کے دوران 113 مقابلوں میں 27 نامی گرامی ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ 82 ڈاکو زخمی ہوئے اور 123 کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ، 15 مغوی شہریوں کو بازیاب کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں ایک اور پنجابی گلوکار تیجی کاہلوں بھارتی نژاد گینگ کے ہاتھوں قتل
حکومت کا عزم
جاوید عالم اوڈھو نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اس بات کا عزم کیا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکووں کی رٹ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم سے اسلحہ خرید رہے تھے، جو کہ پہلے صرف اے کے 47 خریدتے تھے، مگر اب وہ جدید جنگی ہتھیار بھی خریدنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مارشل لا کا نفاذ جنوبی کورین صدر کو لے ڈوبا، مواخذے کی تحریک کامیاب
موجودہ صورتحال
آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈاکوؤں کے پاس ایسی گولیاں تھیں جو ہماری اے پی سی کی چادر کو پھاڑ دیا کرتی تھیں، جس سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ اس پر حکومت سندھ کی پالیسی کے تحت ڈاکوؤں کا سرینڈر کرنا جاری ہے۔
پولیس کی کارکردگی
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ڈاکو مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے۔ ہماری کوشش تھی کہ ڈاکوؤں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ حکومت کے حوصلے اور ساتھ دینے سے سندھ پولیس کی کمر مزید مضبوط ہوئی ہے، اور اب تمام ڈاکو قانون کی گرفت میں آئیں گے اور ہم انہیں عدالتوں میں پیش کریں گے۔








