دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں، نماز جمعہ کے دوران حملہ افسوسناک ہے: عطاتارڑ
حملے کی خبر
لاہور: (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جمعے کی نماز کے دوران مسلمانوں پر حملہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ان کا واحد مقصد بدامنی پھیلانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورکرز میں لاوا پک رہا، بانی کو باہر نکالنا اولین ترجیح ہے: شوکت یوسفزئی
تحقیقات میں پیش رفت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور ملزمان کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، دہشتگردوں کا وہاں تک تعاقب کیا جائے گا جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: قطر-امریکا کا مضبوط اتحادی، شخصیات کو نشانہ بناتے وقت احتیاط کی ضرورت ہے: ٹرمپ
پیغامِ امن کمیٹی
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت نے پیغامِ امن کمیٹی قائم کی ہے جس میں ہر مذہبی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل ہیں، دہشتگرد اب کمزور ہو چکے ہیں، اسی لیے مضافاتی علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، ترلائی حملہ آور کے بارے میں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ افغانستان جا چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اہم رہنما نے حکومت کو “بڑی پیشکش” کر دی
سکیورٹی کے اقدامات
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے سکیورٹی امور پر بات ہوئی ہے۔ امام بارگاہوں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی شکست دے دی
شہیدوں کا یادگار
انہوں نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد پولیس ناصر رضوی کا کزن بھی اس واقعے میں شہید ہوا ہے جبکہ پولیس فورس پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن ایک حکومت نے دہشتگردوں کو دوبارہ لا کر بسایا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گرد تنظیموں سے بھی بھارت کی طرح نمٹنے کا اعلان
دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور اب بھی انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
حملے کا نتیجہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ میں خودکش حملے کے نتیجے میں 33 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔








