ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ
ماضی کا اثر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران کیا ہے، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے سری لنکن صدر کا رابطہ، بھارت سے میچ کے حوالے سے اہم درخواست کر دی
بلوچستان کے بحران
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Indian Female Wrestler Defeats BJP in State Elections
تشویش کی وجوہات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر شاہ میں کمپیوٹر کے کچرے سے خالص سونے کی بازیابی کیسے ہوتی ہے؟
مثالوں کی کمی
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وار ہیڈ کا استعمال: اسرائیلی میڈیا
انسانیت کی پامالی
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا؟
امن کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔








