ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ
ماضی کا اثر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران کیا ہے، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات، ڈاکو 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر لوٹ کر فرار
بلوچستان کے بحران
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا عالمی منڈی میں مزید اضافے کے باوجود عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ
تشویش کی وجوہات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ بے قابو، پنجاب بھر میں تمام تعلیمی ادارے 17نومبر تک بند
مثالوں کی کمی
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: معاملات بات چیت سے حل ہوتے ہیں دھمکیوں سے نہیں: خواجہ آصف
انسانیت کی پامالی
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا؟
امن کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔








