ملک میں دہشت گردی کی لہر پریشان کن ہے، انتشار کے اسباب اندرونی و بیرونی عناصر ہیں: حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی کی تشویش
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی حالیہ لہر پریشان کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیٹ فیول مہنگا، عیدالفطر کے موقع پر اندرون و بیرون ملک ہوائی سفر کےلئے ٹکٹوں کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ
اجلاس کے دوران خطاب
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 8 فروری کے دھاندلی زدہ انتخابات کو 2 سال مکمل ہو گئے ہیں، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی لہر انتہائی تشویش ناک ہے، اور اس انتشار کے اسباب میں دونوں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونی قرضوں پر 8 فیصد سود کا تاثر درست نہیں، وزارت خزانہ
وادی تیراہ کی حالت
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ وادی تیراہ کی صورت حال بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو نکالنے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا، لہذا حکمرانوں، اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدقسمتی سے سب کچھ ہائبرڈ ہو گیا، اس میں چچا آصف زرداری اور اُن کی پارٹی بھی شامل ہے، ایمل ولی خان
سیاسی مسائل پر موقف
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے مجوزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کریں گے، اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فون کیا ہے، ان سے جلد ملاقات بھی ہوگی۔
حماس کی پالیسی پر تبصرہ
حافظ نعیم الرحمان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی پالیسی قابل ستائش ہے، اور اسلامی تحریکوں کو اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔








