ایشیا غربت کے کلچر میں قید ہے، کارل مارکس نے برصغیر کے بارے میں لکھا کہ یہ علاقہ آخری علاقہ ہو گا جہاں معاشی انقلاب یا تبدیلی آئے گی۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 301
سید فراست علی چیف ایگزیکٹو سنٹر فار چینج کراچی
یہ بھی پڑھیں: اشفاق احمد خلیل وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات تعینات
تعلیم اور تحریک
میں نے انگلینڈ میں زرعی اکنامکس پڑھی ہے اور چائنا کی زرعی اکنامکس پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں انقلاب پیدا ہوا۔ 1981ء میں افغان جنگ کاآغاز ہوا تو پاکستان کے حالات میں زبردست تبدیلی شروع ہوئی۔ اس سے مجھے تحریک ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے پاکستان کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی بیوی کا اجنبیوں سے مبینہ زیادتی کروانے والا شوہر: ‘میری والدہ اس شخص کی دیکھ بھال کر رہی تھیں جس نے اُن کا زیادتی کروایا’
پاکستان کی بین الاقوامی امداد اور خودداری
اس وقت دیگر ممالک پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے امداد کی پیش کش کر رہے تھے۔ یہ امداد ہماری خوداری کو مجروح کرنے والی تھی۔ تب میں نے مضامین لکھنے شروع کیے اور معاشی تجزیہ کے ذریعے موجودہ حالات میں پاکستان کی پوزیشن کو واضح کرنے کی کوشش کی کیونکہ جب تک اصل بیماری کی تشخیص نہ ہو تب تک اس کا علاج ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف بھارتی گلوکار بادشاہ کے کلب کے باہر دھماکہ
معاشی اور سماجی چیلنجز
”ایشیاء غربت کے کلچر میں قید ہے“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاگیرداری مزاج تبدیل نہیں ہوتا۔ کارل مارکس نے برصغیر کے بارے میں لکھا کہ یہ علاقہ آخری علاقہ ہوگا جہاں معاشی انقلاب یا تبدیلی آئے گی۔ 5000 ہزار سال سے بھارت پر باہر کے حملہ آور حکومت کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے آقا اور غلام کا فلسفہ نفسیات میں راسخ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی کی شاہ فیلڈ میں ڈرون حملہ
تبدیلی کی ضرورت
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی مساوات کا درس دیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ مغرب برصغیر میں اس تبدیلی کو کامیاب ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ اس سلسلے میں برصغیر میں اقبال وہ واحد شاعر تھے جنہوں نے پیغمبرانہ سوچ کا مظاہرہ کیا۔ امید ہمیشہ ایک بڑی سوچ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور اگر ایسا ہو تو تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوکاڑہ میں اپنی طرز کے پہلے اور منفرد 80 کنال ایریا پر مشتمل جدید ڈمپنگ سائٹ کا افتتاح
عوام کی تبدیلی
ماؤ نے کہا تھا کہ طاقت بندوق کی نالی سے پیدا ہوتی ہے اور انقلاب کوئی پکنک نہیں ہوتی۔ عوامی تبدیلی صرف مارکیٹ اکانومی میں تبدیلی سے آسکتی ہے۔ آج وال سٹریٹ پر کس نے قبضہ کر رکھا ہے؟ یہ مسلمان نہیں بلکہ مغرب کا تعلیم یافتہ طبقہ اس انقلاب کی سعی کر رہا ہے۔ اب دنیا بھر میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ تبدیلی ضرور لائیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی ہتھیاروں نے میدان جنگ میں ٹیسٹ پاس کر لیا، بھارت نہ مانا لیکن فرانسیسی میڈیا نے مان لیا
پاکستان کے دو پہلو
پاکستان میں دو پہلو ہیں: بیرونی اور اندرونی۔ بیرونی طاقتیں پاکستان میں معاشی خوش حالی کا راستہ روک رہی ہیں اور اندرونی طاقتیں ناجائز حربوں سے بغیر محنت کے سرمایہ جمع کرنے میں سرگرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 4سال جواب جمع نہ کرنے پر کچھ نہیں ہوا اور 2ماہ میں حق دفاع ختم کردیا، جسٹس ہاشم کاکڑ
غربت کی حالت
بھٹو نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا تھا۔ اسی لیے عملی طور پر وہ یہ تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ جب تک غربت کا شیطانی چکر موجود رہے گا اور عوام کی زندگی مشکل تر ہوتی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیلجیئم میں پاکستان تحریک انصاف کا یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
اسلام اور انسانی عزت
اسلام نے بھی غریب آدمی کو عزت بخشی، جس کی بہترین مثال بلال حبشیؓ ہیں اور بہت سے دوسرے صحابی ہیں جو عام آدمی تھے لیکن انسانیت کے لیے مثال بن گئے۔ خانہ کعبہ کی عمارت برابری کی زبردست مثال ہے۔ یہ سرمایہ داری کی مثلث کو توڑنے کا سمبل ہے۔
آگے بڑھنے کے لیے اقدامات
پاکستان کو طاقتور بنانے اور غلامی سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ آئیڈیل ذہنیت والے سیاست دانوں کو منتخب کریں اور روایتی سیاست دانوں کی اولادوں کو مسترد کر دیں۔ نیز عوام سیاستدانوں پر اپنی گرفت مضبوط کریں۔ میرا ایجنڈا یہ ہے کہ Non ایشوز میں سے ایشوز کو علیٰحدہ کریں۔ پاکستان مغرب کے لیے Crystal Ball ہے، اسے بچانا ہمارا فرض ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








