راشد لطیف نے کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہونے کی وجہ بتا دی
راشد لطیف کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے کہا ہے کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے جبکہ وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 26-2025: حکومت کا کم سے کم اجرت نہ بڑھانے کا فیصلہ
کراچی کے مسائل پر تشویش
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق انہوں نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انجینئرنگ کا کیڑا اسے چین نہیں لینے دیتا تھا، وہ میری ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھانے میں اب تک ناکام رہا، سخت الفاظ میں بات کی تو منہ سے جھاگ نکلنے لگی
رہائش کے مسائل
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کراچی کے زیادہ تر لوگ ڈی ایچ اے منتقل ہو رہے ہیں تو ملیر اور دیگر علاقوں کے رہائشی کہاں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان سلمان آغا نے پہلے بیٹنگ لے کر پچ رپورٹ پیش کرنے والے ایرون فنچ کے پہلے باؤلنگ کرنے کے مشورے کو نظر انداز کر دیا
کرکٹ کا زوال
سابق کپتان نے کراچی اور لاہور میں کرکٹ کے زوال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب یہ دونوں شہر کرکٹ کی نرسریاں کہلاتے تھے مگر اب گراؤنڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ: حارث رؤف جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے
کھیل کے مواقع کی کمی
راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گراؤنڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب رہائشی فلیٹس تعمیر ہو چکے ہیں، جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیل کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں میجر سمیت 3 جوانوں کی شہادت پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا خراج عقیدت
اکیڈمیوں کا قیام
انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث کوچز اور سابق کھلاڑیوں کو نجی اکیڈمیز قائم کرنا پڑیں، تاہم اکیڈمیز میں محدود تعداد میں ہی کھلاڑیوں کو تربیت دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے کسی قسم کی جارحیت مسلط کی توپوری قوم منہ توڑ جواب دے گی: فیصل آباد میں قومی یکجہتی کا نفرنس سے علماء کا خطاب
لاہور کی مثال
انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک ایسا مقام تھا جہاں سے پاکستان کے سات کپتان سامنے آئے، مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گراؤنڈز بھی ختم ہو چکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار
راشد لطیف نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر تحقیق کرے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر کراچی سے نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔








