راشد لطیف نے کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہونے کی وجہ بتا دی
راشد لطیف کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے کہا ہے کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے جبکہ وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا احتجاج لاہور میں: 22 مقدمات مختلف تھانوں میں درج
کراچی کے مسائل پر تشویش
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق انہوں نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 18 سال بعد گرم ترین دن، پارہ کتنا رہا؟
رہائش کے مسائل
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کراچی کے زیادہ تر لوگ ڈی ایچ اے منتقل ہو رہے ہیں تو ملیر اور دیگر علاقوں کے رہائشی کہاں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کے ایئرپورٹ پر بم پھٹنے سے رن وے میں گڑھا، آخر یہ بم وہاں کیسے پہنچا؟ حیران کن انکشاف
کرکٹ کا زوال
سابق کپتان نے کراچی اور لاہور میں کرکٹ کے زوال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب یہ دونوں شہر کرکٹ کی نرسریاں کہلاتے تھے مگر اب گراؤنڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جناح پولو فیلڈز کے زیر انتظام ڈائمنڈ پینٹس پولو کپ 2026ء کا فائنل ٹیم بی این نے جیت لیا۔
کھیل کے مواقع کی کمی
راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گراؤنڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب رہائشی فلیٹس تعمیر ہو چکے ہیں، جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیل کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کورئیر کا روپ دھار کر ڈاکو بھارتی سائنسدان سے 2 کروڑ روپے لے اڑے
اکیڈمیوں کا قیام
انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث کوچز اور سابق کھلاڑیوں کو نجی اکیڈمیز قائم کرنا پڑیں، تاہم اکیڈمیز میں محدود تعداد میں ہی کھلاڑیوں کو تربیت دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہارس اینڈ کیٹل شو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ
لاہور کی مثال
انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک ایسا مقام تھا جہاں سے پاکستان کے سات کپتان سامنے آئے، مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گراؤنڈز بھی ختم ہو چکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار
راشد لطیف نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر تحقیق کرے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر کراچی سے نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔








