پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا، سیکیورٹی عہدیدار کی صحافیوں سے گفتگو
سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) میڈیا نمائندگان سے ملاقات کے دوران ایک اہم سیکیورٹی عہدیدار نے ملک کی داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، عیدالاضحیٰ کے حوالے سے اہم فیصلے، میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع
قوم کی مشترکہ جنگ
عہدیدار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں مہنگائی میں کمی کے دعوے لیکن دراصل کتنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا؟ سرکاری اعدادوشمار نے ہی حکومتی دعووں کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا
بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی
سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر ہونے والی سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی۔ ان کے مطابق بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالٹانے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
ملک میں اتحاد کی ضرورت
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی یا مذہبی سوچ سے قطع نظر دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، جبکہ بلوچستان کے عوام احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کو پہچان چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی نسل کو منشیات سے پاک معاشرہ دے کر رہیں گے: محسن نقوی
سمگلنگ کا خاتمہ
اسمگلنگ کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ تین سال قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ سمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت میں راستوں کی بندش کے باعث پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی ملتوی
گڈ گورننس کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس ہی دہشت گردی کے خاتمے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، اور اس سلسلے میں حالیہ مشاورتی اجلاس مثبت پیش رفت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فنانس ایکٹ اور لیبر پالیسی کے خلاف چیمبرز سراپا احتجاج، 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
قوم کا عزم
انہوں نے کہا کہ جس طرح قوم نے ماضی میں متحد ہو کر بھارت کا مقابلہ کیا، اسی طرح دہشت گردوں کو بھی شکست دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کے دوروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے تعلق کو کمزور نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 24ہزار300روپے کمی
اپوزیشن لیڈر کے بیان پر ردعمل
اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو سیکیورٹی عہدیدار نے افسوسناک اور بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ان کا استحقاق ہے اور فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
قانونی معاملات کے فیصلے
انہوں نے مزید کہا کہ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتیں کریں گی، اور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔








