بنگلادیش: بی این پی اور جماعت اسلامی میں ٹکر کا مقابلہ، عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری
بنگلادیش میں عام انتخابات کی تیاری
ڈھاکہ (ویب ڈیسک) بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے میدان سج گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: جمشید دستی کا نااہلی کے بعد ردعمل آ گیا
انتخابی عمل کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بنگلادیش میں عام انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
پولنگ کے اوقات اور حلقے
ملک بھر کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی
پارلیمانی نشستوں پر مقابلہ
300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلا دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا گورنر خیبر پختونخوا کی اے پی سی میں عدم شرکت کا اعلان
اہم امیدواروں کی تفصیلات
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلادیشن نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضیلہ قاضی نے صدارتی ایوارڈ سے متعلق اہم وضاحت پیش کی
عوامی لیگ کی صورتحال
عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہیں۔ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال: پی ٹی آئی ترکیہ کی گولن تحریک کی طرز پر پاکستانی ریاست پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے
سیکورٹی کے انتظامات
عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات ہے۔ چیف الیکشن کمشنر بنگلا دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں 4 ملین کیپٹاگون گولیوں کی سمگلنگ کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے قبضے میں لے لیا
عوامی سروے کی پیشگوئی
یاد رہے کہ بنگلادیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
سروے کی تفصیلات
سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں。








