دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیئے: وزیر اعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ کی عالمی توجہ کا ذکر
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیئے۔ سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کا تخمینہ ہمارے کئی سال کے بجٹ سے زیادہ تھا، ہمیں عالمی بینک نے پہلی امداد دی، ایک ہفتے میں ہم نے وفاقی حکومت اور عالمی بینک کے ذریعے 900 ملین ڈالرز جمع کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر عرفی جاوید کی لپ فلرز والی ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئی۔
ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء
کراچی میں ایشیاء پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیاء پیسیفک غیر معمولی دلکش مناظر اور زندہ دل کمیونٹیز کا حامل خطہ ہے۔ مصروف شہروں سے دور دیہات تک یہ خطہ اربوں لوگوں کا گھر ہے اور اس خطے کی مزاحمت، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتیں ہم سب کے لیے متاثر کن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 10 امیر ترین انسانوں کی فہرست جاری، ایلون مسک سب سے آگے
مشترکہ عزم اور ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروگرام
’’جنگ‘‘ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سب لوگ مشترکہ عزم کے ساتھ رہائش اور شیلٹر کے مسائل حل کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، مجھے فخر ہے کہ سندھ دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروگرام کے ساتھ اس فورم کی میزبانی کر رہا ہے اور آج دنیا بھر کے لوگ منصوبے کی وسعت اور اثرات دیکھنے آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے صدر ورلڈ بینک نے ایس پی ایچ ایف مکانات کا دورہ کیا، دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیئے۔ 2022ء کے سیلاب میں 70 فیصد سندھ زیرِ آب آگیا تھا اور 21 لاکھ مکانات متاثر ہوئے، مجھے فخر ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو سے کیا گیا وعدہ پورا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشن کی رازداری اتنی زیادہ تھی کہ میری بیگم کو بھی پتا نہیں تھا کہ کیا کر آیا ہوں، بھارت کا S 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کرنے والے پائلٹ کی پروگرام میں گفتگو
بہتر معیار اور بااختیار کمیونٹیز
انہوں نے کہا کہ مکانات ریکارڈ وقت میں تعمیر کیے گئے اور بحالی کے عمل میں معیار قائم کیا گیا، سندھ کی خاص بات اور عالمی توجہ کا سبب کمزور طبقے پر مرکوز ماڈل ہے۔ خاندانوں بالخصوص خواتین کو قیادت دے کر ملکیت، وقار اور سماجی تبدیلی پیدا کی گئی، یہ نقطۂ نظر دنیا کو دکھاتا ہے کہ کمیونٹیز پر اعتماد اور انہیں بااختیار بنانا بحالی کو آسان بناتا ہے۔ ایس پی ایچ ایف کے ذریعے بڑے پیمانے پر بحالی، جدت اور سماجی تبدیلی ممکن بنا کر دکھائی گئی اور خاندان محض وصول کنندہ نہیں بلکہ اپنی بحالی کے فعال شراکت دار ہیں۔
بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام بین الاقوامی و قومی شراکت داروں اور ماہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئیں ہر خاندان کے لیے محفوظ اور باوقار رہائش کے مستقبل کی جانب کام کریں۔ سیلاب کے بعد متاثرین کی سب سے بڑی شکایت تھی کہ انہیں گھر بنا کر دیں، چیئرمین بلاول بھٹو کو ہر علاقے میں ایک ہی مطالبہ سننے کو ملا، 2010ء میں پورا صوبہ سیلاب میں ڈوب گیا تھا، 2022ء کے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، ماضی میں سیلاب کے بعد مستقل ہاؤسنگ حل پر توجہ نہیں دی گئی۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے جب اس پر کام کرنے کا کہا ابتدائی طور پر یہ سرسری بات لگی، سیلاب میں 21 لاکھ سے زائد گھروں کا نقصان ہوا، گھروں کی تعمیر کے لیے 600 ارب روپے درکار تھے، عالمی بینک نے منصوبے میں تعاون فراہم کیا۔








