عمران خان اور بشریٰ بی بی کا طبی اور قانونی بنیادوں پر توشہ خانہ2 کی سزائیں معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیرِاعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو (بلغاری جیولری) کیس میں سنائی گئی سزاؤں کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں جبکہ عمران خان کو درپیش سنگین طبی مسائل بھی سزا کی معطلی کے متقاضی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی سے متعلق آئی سی سی اجلاس کی اندرونی کہانی

درخواست گزاروں کے وکلاء

درخواست ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر سلمان صفدر، گوہر علی خان اور قوسین فیصل مفتی کے ہمراہ دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ فوجداری اپیل کے حتمی فیصلے تک سزا معطل کر کے درخواست گزاروں کو رہا کیا جائے۔ یاد رہے کہ 20 دسمبر 2025 کو اسپیشل کورٹ نے دونوں کو 10 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت مزید 7 سال قید بھی دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر میری دریافت ہے، ریحام خان کا دعویٰ

قانونی وجوہات

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ہی مبینہ فعل پر دو مختلف قوانین کے تحت سزا دینا جنرل کلازز ایکٹ 1897 کے منافی ہے، لہٰذا بیک وقت دونوں دفعات کے تحت سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو "سرکاری ملازم" قرار دے کر قانونی غلطی کی کیونکہ منتخب عوامی عہدیدار اس تعریف میں شامل نہیں ہوتے۔ درخواست میں طبی بنیادوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل فیض کو سزا صرف ابتدا ہے، حامد میر

طبی وجوہات

مؤقف کے مطابق سپریم کورٹ میں 10 فروری 2025 کو پیش کی گئی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ خون جمنے کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے اور جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں۔ اس بنا پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انسانی ہمدردی اور انصاف کے تقاضوں کے تحت سزا معطل کی جائے۔

استغاثہ کے گواہوں پر اعتراضات

درخواست گزاروں نے استغاثہ کے بعض گواہوں کے کردار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے ضابطہ فوجداری کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے جبکہ ایک اہم شریکِ معاملہ کو ملزم بنانے کے بجائے بطور استغاثہ گواہ پیش کیا گیا جو بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دورانِ ٹرائل دونوں ملزمان ضمانت پر رہے اور عدالت کی عائد کردہ تمام شرائط کی پابندی کی۔ ساتھ ہی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس کی جلد سماعت کے لیے بھی علیحدہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...