الیکشن کمیشن میڈیا پر ہر صوبے میں مباحثوں کا انتظام کرے اس طرح سے ہمارا سیاسی نظام اور سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے جوابدہ بن سکیں گی
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 307
مقصد
مندرجہ بالا دونوں عوامی اعتراضات کے توڑ اور آئندہ انتخابات کو شفاف تر اور دھاندلی سے پاک بنانے کے لیے سٹیزن کونسل آف پاکستان نے درج ذیل سفارشات مرتب کی ہیں۔ ان سفارشات کو الیکشن کمیشن آف پاکستان، حکومتی اکابرین اور تمام جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا اور تمام پرنٹ میڈیا/اخبارات کو بھی ارسال کیا جا رہا ہے۔
سفارشات / تجاویز
1: متناسب نمائندگی کا طریقہ
پارٹی لسٹ طریقہ متناسب نمائندگی، جو کہ برطانیہ اور اس کے سابقہ کالونی ممالک میں مستعمل ہے، کو پاکستان میں انتخابات 2018ء کے لیے اپنایا جائے۔ اس کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کو تبدیل کر کے نیا قانون بنانا ہو گا۔
الیکشن کمیشن ہر صوبے کے لیے ملٹی ممبران کے حلقے بنائے گا، اور یہی طریقہ کار صوبائی اور لوکل باڈیز کے انتخابات کے لیے بھی اپنایا جائے گا۔
انتخابات کے انعقاد سے 4 ماہ قبل، الیکشن کمیشن قومی اور صوبائی حلقوں کے لیے پارٹیوں سے امیدواران کی لسٹ طلب کرے گا۔ پارٹی ریلیوں اور پبلک جلسوں کی اجازت دینے کے بجائے، الیکٹرونک میڈیا پر مباحثوں کا انتظام کیا جائے گا۔
سیاسی جماعتوں کی محاسبہ کرنے کا یہ سلسلہ عوام کو بہتر طور پر جانچنے کی سہولت فراہم کرے گا اور امید ہے کہ اس سے سیاسی نظام اور جماعتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گی۔
امریکہ میں ایسے مباحثے کامیاب ہوتے ہیں، اور اس طرح سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے اخراجات کو کم کیا جا سکے گا۔
2: انتخابات میں حصہ لینے کی شرائط
صوبائی سطح پر 1 فیصد سے کم ووٹ لینے والی پارٹیوں کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔ اس طرح ہر الیکشن میں سیاسی جماعتوں کی تعداد خود بخود کم ہوتی جائے گی۔
متناسب طریقہ نمائندگی کے مطابق سیاسی پارٹیاں الیکشن لڑیں گی نہ کہ ہیوی ویٹ امیدواران۔ الیکشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے انتخابات اپنی نگرانی میں کروائیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








