ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کرسکیں، علی امین گنڈا پور
علی امین گنڈاپور کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتہ وار بھارت کی کتنی پروازیں پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں؟ بڑا انکشاف
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش
اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق منافقت کی گئی اور پہلے غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ جب سلمان صفدر کی ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کا ان کی مرضی کے معالجین سے علاج ہونا چاہیے کیونکہ حکومت نے غلط بیانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ویژول ایفیکٹ آرٹسٹ لاریب عطا کی ایک اور بڑی کامیابی ہالی ووڈ فلم “مشن ایمپاسیبل دی فائنل ریکنگ” میں بطور ویژول ایفیکٹ آرٹسٹ خدمات پیش
ملاقاتوں کی بندش
علی امین نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ٹیم لیڈر ہیں اور ان کا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہے۔ میری بانی پی ٹی آئی سے کم ملاقاتیں ہوئیں اور ملاقاتوں کے دوران بھی معلومات غلط بیان کی گئیں۔ جب سیاسی ملاقاتیں بند ہوئیں تو حالات خراب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ ؛سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
پارٹی کے اندرونی مسائل
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے آفیشل پیجز، بانی کے اکاؤنٹ اور چند افراد کی بار بار بیانات سے یہ ساری چیزیں جنم لیں۔ میں نے کبھی بھی چھپ کر کوئی ملاقات نہیں کی۔ تنقید سے گزرنے والے کچھ افراد سے پوچھا جائے کہ کیا اب بھی ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ پہلے یہ ملاقاتیں غلط لگتی تھیں، اب درست لگ رہی ہیں، کیا ان کے نظریے میں تبدیلی آئی؟
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب سے سپیکر ملک محمد احمد خان اور ارکان اسمبلی عاصم میکن اور خرم ورک کی ملاقاتیں
پریشر اور کمزوری
علی امین کا کہنا تھاکہ کئی بار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد میرا نام جاری کیا گیا جس پر میری ٹرولنگ ہوئی۔ اگر اس پر کنٹرول نہ کیا تو پہلے بھی نقصان ہوا، آگے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سب کی کمزوری یہ ہے کہ آج رہائی کے بجائے ملاقات تک کی نوبت آئی ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ جو طاقتور ہوتا ہے، اس کی بات مانی جاتی ہے۔ کمزور کو طاقتور کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ سے رابطہ
ایک سوال کے جواب میں علی امین نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے، اور نہ ہی مجھے رابطے کی ضرورت ہے۔







