ادارے تحریک انصاف کے لیڈرز اور کارکنوں کو دوسرے درجے کا شہری کیوں سمجھ رہے ہیں؟ سہیل آفریدی
سہیل آفریدی کا عمران خان کی صحت پر بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایک بار پھر صرف اپنے ذاتی ڈاکٹرز سے ملنے کا کہا ہے جو اُن کا آئینی و قانونی حق ہے۔ جعلی حکومت اور اُن کو لانے والوں کی ہٹ دھرمی سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں، جوکہ خطرناک ہے۔ ایسی حرکتوں سے ملکی حالات کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی زلزلے آ رہے ہیں، نوبت سول نافرمانی کی کال تک کیوں پہنچی، سوال لاشیں ملنے کا نہیں عوام میں غم وغصے کا ہے، گیم کا ٹیمپو سلو کون کرے گا۔۔؟
ایکس پر سہیل آفریدی کا بیان
ایکس پر اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے کارکنان جو اپنی مدد آپ پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں اُن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بہترین علاج ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار مہیش بھٹ کے بھائی وکرم بھٹ کو بیوی سمیت گرفتار کر لیا گیا
عدلیہ سے مطالبات
سہیل آفریدی نے مزید کہا، "میرے خیال میں معزز عدلیہ کو کوئی بھی حکم دینے سے پہلے مسئلہ پوچھنا چاہیے کہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ بیٹھے کیوں ہیں؟ کیوں اُن کے لیڈر کو اُن کا آئینی و قانونی حق نہیں دیا جا رہا؟ کیوں ملاقاتیں بند ہیں؟ کیوں عدالتیں ایک سال سے اُن کے کیسز نہیں سُن رہیں؟ کیوں 3،3 ججز کے احکامات کو اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے؟ کیوں اکتوبر 2024 کے بعد عمران خان صاحب سے اُن کے ذاتی معالج کو نہیں ملوایا جا رہا؟ آنکھ کی تکلیف کو یہاں تک پہچانے والا کون ہے؟ کیا آئین و قانون صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے؟ پاکستان کے تمام ادارے پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور ورکرز کو کیوں دوسرے درجے کا شہری سمجھ رہے ہیں؟ کیا ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں؟"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز 2 مقدمات میں اشتہاری قرار
پولیس کی کارروائی کا تذکرہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے بعد آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ کا ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالی وردی کے پیچھے حکم و احکامات خاکی وردی کے ہیں۔ آئی جی وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب ایک دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں باہر سے لائے گئے پولیس کے بڑے اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو آمنے سامنے لایا جائے تو حالات کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟
عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرنے کا عزم
سہیل آفریدی کے مطابق یہ یاد رہے کہ ہم عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ اور انتہائی تکلیف کے باوجود بہت برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی ذہن میں ہو کہ عمران خان کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں۔ پاکستانی عوام مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔








