چھ مقدمات کی سماعت: عمران خان کو عدالت لانے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد کی عدالت میں عمران خان کے کیسز کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف چھ کیسز کی سماعت کی۔ اس دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔ عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے روس کیلئے 22 جون سے کارگو ٹرین سروس شروع کی جائے گی، وزیر ریلوے
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سابق وزیر شاہنواز رانجھا کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر پانچ کیسز کی سماعت ہوئی جس میں سلمان صفدر نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی چیف آف جنرل سٹاف کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
حاضرین اور سماعت کی کارروائی
عمران خان کی جانب سے وکیل سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عمران خان کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا راولپنڈی کا دورہ، محمد نواز شریف فلائی اوور کی 31 مئی تک متوقع تکمیل پر اظہار مسرت، روڈز کے اطراف میں درخت لگانے کا حکم
درخواست ضمانت پر بحث
عمران خان کی 6 درخواست ضمانتوں پر وکیل سلیمان صفدر نے دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب آپ کے پاس پیش ہوا تو ریلیف لے کر گیا تھا، اور حکومت کی غفلت نے ان کی ضمانت کی بنیاد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی
سلمان صفدر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تو سپرنٹنڈنٹ جیل کو پیش ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: لایا ہے گھر میں تیسری بیگم وہ اس لیے۔۔۔۔(مسکرائیے )
عدالت کا حکم
عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام تفتیشی افسران ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔
عمران خان کے خلاف مقدمات کی حیثیت
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر ایک مقدمہ درج ہے۔








