عوام زبردستی کسی کو اتاریں تو وہ ’’ذلت‘‘ ہے، لیکن جب کوئی خود مدت پوری کر کے جائے تو وہ’’ عظمت‘‘ ہے‘‘ ڈاکٹر محمد یونس کے اقتدار کی پروقار رخصتی، آنکھیں چھلک پڑیں
ڈاکٹر محمد یونس کا مستعفی ہونے کا اعلان
لاہور (طیبہ بخاری سے) بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے حالیہ عام انتخابات کے کامیاب انعقاد اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ 85 سالہ ڈاکٹر یونس نے قوم سے الوداعی خطاب کے دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنکھیں چھلک پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ایف 15 کے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کی کہانی سنا دی
خود مختاری اور عظمت
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، "عوام زبردستی کسی کو اتاریں تو وہ 'ذلت' ہے، لیکن جب کوئی خود مدت پوری کر کے جائے تو وہ 'عظمت' ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں ہلاک
عبوری حکومت کی کامیابیاں
یہ جملہ ان کی تقریر کا ایک اہم حصہ تھا، جس میں انہوں نے عبوری حکومت کے 18 ماہ کے دور کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد طلباء کی تحریک کے نتیجے میں وہ عبوری قیادت سنبھالنے آئے تھے۔ اب انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی شاندار کامیابی اور طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کے آنے کے بعد اقتدار منتقل کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چارج لینے پہنچا تو دفتر پر پڑا بڑا سا تالہ منہ چڑھا رہا تھا، پرانے لوگ بلا کے سمجھ دار ہوتے تھے۔مروت، دید مرید سے اُن کی آنکھوں بھری ہوتی تھیں
جمہوریت اور بنیادی حقوق کی اہمیت
ڈاکٹر یونس نے عوام، سیاسی جماعتوں اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ کے پرامن اور پروقار ترین انتخابات تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمہوریت، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کا یہ سفر جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
جذباتی وداعی تقریب
الوداعی تقریب میں موجود لوگوں نے ڈاکٹر یونس کی خدمات کو سراہا اور ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کو دیکھ کر جذباتی لمحات کا مشاہدہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ منظر وائرل ہو گیا، جہاں لوگ ان کی "پروقار رخصتی" کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
سیاسی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ
یہ واقعہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک مثالی اور عظیم لمحہ کے طور پر یاد کیا جائے گا، جہاں ایک عالمی شخصیت نے اقتدار کو عزت اور وقار کے ساتھ منتقل کیا۔








