علمائے کرام نے شہریوں، مزدوروں، مسافروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کو حرام قرار دے دیا
علمائے کرام کا بیان
کوئٹہ(آئی این پی) علمائے کرام نے شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کو حرام قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر نے موت سے قبل 7 جولائی کو 10 افراد کو پیغامات بھیجے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا : اقرار الحسن
تشویش کا اظہار
تفصیل کے مطابق بلوچستان میں جاری تشدد اور بے گناہ شہریوں کے قتل پر علمائے کرام نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے، شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام ہے اور یہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا دن مشکل اور آسان گزرا، صبح آنا شام کو واپس چلے جانا، کوئی بات چیت نہیں، میری حالت ان چار پانچ دنوں میں اس محاورے جیسی تھی ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“۔
دہشت گردی کے خلاف موقف
علما نے واضح کیا کہ دہشت گردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانا اسلام میں ہرگز جائز نہیں، اور کوئی فرد یا گروہ دین کے نام پر جہاد کے اعلان کا حق نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: پولٹری ایسوسی ایشن پر مرغی کی قیمتیں بڑھانے کا الزام ثابت، ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد
پرامن طریقے کی تاکید
علمائے کرام نے بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی سے متعلق حقیقی مسائل کے حل کے لیے قانونی اور پرامن طریقہ اختیار کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔
ریاست سے مطالبات
اعلامیہ میں ریاست سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی مسائل کو انصاف، انسانی وقار اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رہے۔








