علمائے کرام نے شہریوں، مزدوروں، مسافروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کو حرام قرار دے دیا
علمائے کرام کا بیان
کوئٹہ(آئی این پی) علمائے کرام نے شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کو حرام قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ، بیرسٹر گوہر نے برطانوی جریدے کے خلاف اہم اعلان کر دیا
تشویش کا اظہار
تفصیل کے مطابق بلوچستان میں جاری تشدد اور بے گناہ شہریوں کے قتل پر علمائے کرام نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے، شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام ہے اور یہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیکڈ پچ پر سپنرز کا جادو: “پوری دن صنعتی پنکھے چلتے رہے، اب تو سپن ہونا ضروری ہے”
دہشت گردی کے خلاف موقف
علما نے واضح کیا کہ دہشت گردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانا اسلام میں ہرگز جائز نہیں، اور کوئی فرد یا گروہ دین کے نام پر جہاد کے اعلان کا حق نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کون ہیں؟
پرامن طریقے کی تاکید
علمائے کرام نے بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی سے متعلق حقیقی مسائل کے حل کے لیے قانونی اور پرامن طریقہ اختیار کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔
ریاست سے مطالبات
اعلامیہ میں ریاست سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی مسائل کو انصاف، انسانی وقار اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رہے۔








