اسپورٹس بورڈ نے اپنی مالی ذمہ داریاں بروقت ادا کیں، انتظامی اور آپریشنل بے ضابطگیاں فیڈریشن کی سطح پر سامنے آئیں: اہم تفصیلات جانیے
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے بیانات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری حالیہ بیانات میں پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) پر عائد الزامات حقائق کے منافی، گمراہ کن اور ریکارڈ کے برعکس ہیں۔ مستند دستاویزی شواہد واضح کرتے ہیں کہ FIH Pro League Season-7 (Phase-2) ہوبارٹ، آسٹریلیا میں قومی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے پاکستان سپورٹس بورڈ نے اپنی مالی ذمہ داریاں بروقت اور مکمل طور پر ادا کیں جبکہ انتظامی اور آپریشنل بے ضابطگیاں فیڈریشن کی سطح پر سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بونڈائی بیچ کے حملہ آور نومبر میں بھارتی پاسپورٹ پر منیلا پہنچے تھے: فلپائنی حکومت
ٹیم کی روانگی کا معاملہ
آسٹریلیا ٹور کے لیے ٹیم کی روانگی 02 فروری 2026 کو طے تھی تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ویزا درخواستیں تاخیر اور غلط معلومات کے ساتھ جمع کرانے کے باعث روانگی منسوخ ہوئی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ذریعے معاملہ آسٹریلین ہائی کمیشن کے ساتھ اٹھایا جس کے بعد ویزا درخواستیں دوبارہ جمع ہوئیں اور ٹیم 05 فروری کو روانہ ہو کر 07 فروری کو ہوبارٹ پہنچی۔ اصل ایئر ٹکٹ کی لاگت 27.1 ملین روپے پاکستان سپورٹس بورڈ نے برداشت کی جبکہ ویزا کی غلطیوں کے باعث پیدا ہونے والا اضافی مالی بوجھ 9.7 ملین روپے بھی پاکستان سپورٹس بورڈ نے ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: سی سی ڈی کیساتھ مبینہ مقابلوں میں 4 منشیات فروش ہلاک
ہوٹل اور مالی معاملات
واضح رہے کہ آسٹریلیا ٹور کے لیے ہاکی فیڈریشن نے 26 جنوری شام 6 بج کر 24 منٹ پر سپورٹس بورڈ کو 21 کھلاڑیوں/آفیشلز کی فہرست بمع پاسپورٹ بھیجی اور مزید پانچ کھلاڑیوں/آفیشلز کی فہرست بمع پاسپورٹ 27 جنوری 2026 فراہم کی گئی جس کے بعد اگلے روز 28 جنوری 2026 کو پی ایس بی نے ہوٹل بل کی ادائیگی کے لیے چیک جاری کیا جو کہ اِس پہلے جاری کرنا ممکن نہیں تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی درخواست کے مطابق DoubleTree by Hilton (4-Star) میں قیام کے لیے 49,280 آسٹریلین ڈالر بطور ایڈوانس جاری کیے گئے جس میں 12 ڈبل اور 2 سنگل کمرے شامل تھے تاہم ہاکی فیڈریشن نے روانگی سے قبل ہوٹل بکنگ کی تصدیق کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ فی کھلاڑی 1610 امریکی ڈالر ڈیلی الاؤنس اور تقریباً 3,000 امریکی ڈالر متفرق اخراجات کے لیے بھی ایڈوانس جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لو جی اسی لوگ امرتسر میں پہنچ رہے ہیں۔۔۔ یہ انڈیا گیٹ کا علاقہ ہے
فیڈریشن کی بجٹ کی درخواست
یاد رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پرولیگ کے لیے مجموعی طور پر 35 کروڑ روپے کے بجٹ کی درخواست کی تھی۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ نے 25 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کیے جس کے بعد پاکستان سپورٹس بورڈ نے مورخہ 27 اگست 2025 کو باضابطہ طور پر فیڈریشن کو فنڈز کے انتظامات سے آگاہ کرتے ہوئے تفصیلی پلان جمع کروانے کی ہدایت کی۔ بقایا رقم کا انتظام ہاکی فیڈریشن کی اپنی ذمہ داری تھی جو کہ فیڈریشن کے آئین کی شق 9.5 کے تحت لازم ہے، تاہم نہ بقایا فنڈز کا انتظام کیا گیا اور نہ ہی مطلوبہ تفصیلی پلان جمع کروایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کا مرحلہ شروع
ریاستی میٹنگز کے فیصلے
ریکارڈ سے یہ بھی واضح ہے کہ فیڈریشن ہر ٹورنامنٹ پر مسلسل تاخیر سے کاغذات جمع کرواتی رہی۔ مثال کے طور پر ارجنٹائن ٹور کے لیے 23 نومبر 2025 کو ٹریننگ کیمپ 24 نومبر سے شروع کرنے کی درخواست دی گئی جبکہ 26 نومبر 2025 کو NOC کی درخواست دی گئی حالانکہ ٹیم نے 3 دسمبر 2025 کو روانہ ہونا تھا۔
فیڈریشن کی سابقہ بے ضابطگیوں کے باعث پاکستان سپورٹس بورڈ نے اپنی 31 ویں اور 34 ویں میٹنگز میں یہ فیصلہ کیا کہ جب تک فیڈریشن سابقہ فنڈز کا مکمل حساب جمع نہیں کرواتی اسے براہ راست فنڈز فراہم نہ کیے جائیں۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ سابقہ فنڈز ملازمین کی تنخواہوں، صدر و سیکرٹری کے سفری اخراجات، ڈیلی الاؤنس اور فیول چارجز پر خرچ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: حامد رضا کی گرفتاری نہیں ہوئی، انہوں نے خود کو سرنڈر کیا ہے، یہ ان کی اپنی مرضی اور فیصلہ ہے، بیرسٹر گوہر
کمیٹی کے تاثر کی وضاحت
قائمہ کمیٹی سے متعلق دیا جانے والا تاثر بھی درست نہیں۔ ریکارڈ پر ایسی کوئی سفارش یا ہدایت موجود نہیں جس کے تحت پاکستان سپورٹس بورڈ کو Pro League یا کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کے تمام انتظامات خود کرنے کا پابند قرار دیا گیا ہو۔ قومی کھیلوں کے طے شدہ گورننس فریم ورک کے مطابق پاکستان سپورٹس بورڈ مالی معاونت، نگرانی اور پالیسی سپورٹ فراہم کرتا ہے جبکہ ایونٹ مینجمنٹ، ٹیم لاجسٹکس، بکنگ، ویزا پراسیسنگ اور آپریشنل انتظامات متعلقہ نیشنل فیڈریشن کی بنیادی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ اگر تمام انتظامات پاکستان سپورٹس بورڈ نے ہی کرنے ہوں تو متعلقہ فیڈریشن کے انتظامی وجود اور ذمہ داری کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہاکی فیڈریشن کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ مصر کے لیے تاحال ٹیم کے کھلاڑیوں کی فہرست اور این او سی کے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کروائے گئے۔
شفافیت کا عزم
پاکستان سپورٹس بورڈ واضح کرتا ہے کہ قومی ٹیم کے مفاد، شفافیت اور احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔








