ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا
صدر ٹرمپ کا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں ملزم ارمغان کی درخواستِ ضمانت منظور
نئی ڈیوٹی کی تفصیلات
وائٹ ہاؤس کے مطابق 150 دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، دھاتیں اور توانائی آلات سمیت زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی شامل ہے، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 7 دوستوں کا 15 سال پرانا خواب پورا، برطانیہ کا سب سے قیمتی خزانہ دریافت
عدالتی فیصلے کا اثر
اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت نے تین کے مقابلے میں چھ ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا، ٹرمپ نے فیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے ساری دنیا پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز اناطولیہ پہنچ گئیں، ڈپلومیسی فورم 2025ء کے تحت بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کریں گی
ٹرمپ کی تنقید
ٹرمپ نے کہا کہ عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، فیصلے سے دنیا خوش ہوگی مگر اس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیرف سے حاصل رقم واپسی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیر اثر آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں اعزازات کا حصول ہماری پیشہ ورانہ قابلیت و تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے: ایئر چیف
قانونی مؤقف
ٹرمپ نے بتایا کہ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرار ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا۔
عدالتی تشریح
امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔








