پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا
پاکستان کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد فتنہ الخوارج کے خلاف سرحد پار بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی پھر فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی تعریف، پاک بھارت جنگ رکوانے کا تذکرہ
دہشتگردی کی شواہد
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے واقعات شامل ہیں، کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود سرغناؤں اور ہینڈلرز کی ہدایت پر کیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں دھند نے ڈیرے ڈال لیے، حد نگاہ متاثر
حملوں کی ذمہ داری
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے گروہ فتنہ الخوارج (FAK) اور اس سے منسلک عناصر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی ہے۔ حکومت کے مطابق پاکستان بارہا افغان طالبان حکومت سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور بیرونی پراکسیز کے لیے استعمال ہونے سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی مؤثر اور ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت 2300 روپے اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 57 ہزار روپے ہو گئی
پاکستان کا موقف
وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرحدی علاقے میں پاکستان۔افغانستان بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج سے وابستہ پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ ساتھ آئی ایس کے پی کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کو بوسہ دینے کی ویڈیو پر فیصل قریشی کو سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا سامنا
افغان حکومت کی ذمہ داریاں
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے ایک بار پھر توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دیگر دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے کیونکہ پاکستانی عوام کا تحفظ ہر صورت مقدم ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز
Press Release
21 February, 2026In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026








