پنجاب: اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کا فیصلہ
پنجاب حکومت کی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قانون سازی کے تحت اقلیتی اداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی گرانٹ، خیرات، غیر ملکی فنڈنگ سے اقلیتیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے ادارے بھی مشترکہ جائیدادوں میں شمار کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: احسن ریاض فتیانہ، سابق ایم پی اے، اغوا— مقدمہ درج
نئی قانون سازی کا مسودہ
صوبے میں اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کا بل برائے سال 2026 پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا، بل پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیرمین فیلبوس کرسٹوفر نے جمع کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا: خامنہ ای
صوبائی ایکشن کمیٹی کا قیام
بل کے تحت صوبے میں بسنے والی تمام اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ہونے والی قانون سازی کے تحت بااختیار صوبائی ایکشن کمیٹی قائم کی جائے گی۔ کمیٹی کے چیئرپرسن وزیراعلی کا نامزد صوبائی اسمبلی میں اقلیتی رکن ہوگا، سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور اور سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور کمیٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبرن میں بابر اعظم کی دوبارہ آمد کا انتظار: سمیع چوہدری کا کالم
کمیٹی کے ارکان
اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی چھ شخصیات بشمول ایک خاتون بھی کمیٹی کی رکن ہوں گی۔ بااختیار صوبائی ایکشن کمیٹی صوبہ بھر میں اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کا ریکارڈ بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون صحافی نے گھر میں ایسی چیز دیکھ لی کہ فوراً اپنے اصل والدین کو ڈھونڈنے نکل پڑی، لیکن پھر ایسا انکشاف کہ خوشی سے نہال ہوگئی
جائیدادوں کی نگرانی
کمیٹی مشترکہ جائیدادوں پر بننے والی تجاوزات، غیر قانونی قبضے اور ان جائیدادوں کے غلط استعمال کو بھی مانیٹر کرے گی۔ کمیٹی ایسی مشترکہ جائیدادوں کی فروخت، منتقلی اور لیز کے معاملات پر بھی حکومت کو اپنی سفارشات دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک کی مانچسٹر میں نئے قونصل جنرل سے ملاقات
قانون کی دستیابی
قانون سازی کے تحت تمام مشترکہ جائیدادوں کی فروخت، کسی کے نام پر منتقلی، لیز اور موڈگیج حکومتی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکے گی۔ حکومتی اجازت کے بغیر منتقلی، فروخت اور لیز سمیت کئے جانے والے تمام معاملات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: سوئی ناردرن گیس کے حصے داران نے مالی سال 2023-24 کے لیے تاریخ کا بلند ترین 75 فیصد نقد مقسوم منظور کر لیا
فلاح و بہبود کی جائیدادوں کا تحفظ
حکومتی امداد، پبلک فنڈز، مخیر حضرات کے مالی تعاون، خیرات، مشترکہ عطیہ، غیر ملکی فنڈنگ اور اقلیتیوں کی فلاح و بہبود جمع کئے جانے والے چندے سے لی جانے والی جائیداد، تعمیرات بھی مشترکہ جائیدادوں میں شمار کی جائیں گی، کوئی بھی شخص واحد مشترکہ جائیداد کی ملکیت کا دعوےدار نہیں ہوگا۔
جرم کی سزا
ایسی تمام مشترکہ جائیدادیں جو کسی فرد واحد کے نام پر پہلے سے رجسٹرڈ ہیں وہ قانون سازی ہونے کے چھ ماہ میں انہیں مشترکہ جائیدادوں کیلئے منتقل کروانے کے پابند ہوں گے۔ بل کے مطابق اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کو فروخت، منتقل یا لیز پر دینے کے جرم میں ملوث شخص کو سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی.








