سابق اہلیہ کے الزامات پر عماد وسیم کا جوابی وار، قانونی نوٹس بھیج دیا، شواہد کے ساتھ عدالت جانے کا اعلان
عماد وسیم کی قانونی ٹیم کا مؤقف
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے ان پر عائد الزامات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کھیل میں سیاست اور نفرت پھیلانے کا انجام، بھارت پلس 40 ٹی 20 ورلڈکپ کی میزبانی محروم
ثانیہ اشفاق کے الزامات
لیگل ٹیم کے بیان کے مطابق عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے قتل اور جبری اسقاطِ حمل (ابورشن) کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دفاع کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، جن میں میڈیکل رپورٹس بھی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق یہ میڈیکل شواہد اسقاطِ حمل سے متعلق الزامات کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں。
یہ بھی پڑھیں: تمام اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں،بیرسٹر امجد ملک
ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس
لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ نومبر 2023 میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے کیے گئے فیصلے باہمی رضامندی سے ہوئے لہٰذا ان معاملات میں عماد وسیم کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ ڈاکٹرز اس مؤقف کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی ملاقات، اہم امور پر گفتگو
جبری اسقاطِ حمل کا دعویٰ
لیگل ٹیم کے مطابق دسمبر 2023 میں جبری اسقاطِ حمل کا دعویٰ کیا گیا تاہم نومبر 2023 کے اختتام پر سفر کے ریکارڈ سمیت دیگر شواہد ان الزامات کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ عدالت میں جمع کرانے کے لیے تمام دستاویزی ریکارڈ اور گواہان کے بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اعلان کر رہا ہوں عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز ہیں، ہماری مرضی جب چاہیں نوٹیفکیشن کا اعلان کردیں، حنیف عباسی
پیشکش برائے ثبوت
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اگر کسی کے پاس اس مؤقف کے برعکس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر قازقستان کے صدر کل اسلام آباد پہنچیں گے
ثانیہ اشفاق کے الزامات اور ان کے اثرات
واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کے بعد ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اپنے بیانات میں ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر سنگین دعوے کرتے ہوئے انہیں اپنے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر مہم
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں ان کا زبردستی اسقاطِ حمل کرایا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی گئی۔








