ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد
ایم کیو ایم کی درخواست مسترد
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست کو کمیشن نے مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان ترقیاتی اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی
کمیشن کی سماعت میں ایم کیو ایم کے نمائندے
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پیر کو جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے موقع پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، نسرین جلیل و دیگر بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کمیشن کے سربراہ سے استدعا کی کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، خطے میں امن و سلامتی کے لیے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا
کمیشن کے سربراہ کا جواب
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ کے آنے کی خوشی ہے لیکن ابھی کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، آپ تشریف رکھیں۔ ہم فی الحال معذرت چاہتے ہیں، ابھی کمیشن کی سماعت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں اقتدار کی پر امن منتقلی چاہتے ہیں،امریکا
درخواست کا معاملہ
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں، جس پر طارق منصور ایڈووکیٹ نے بتایا کہ میری جانب سے درخواست پہلے ہی دائر کردی گئی ہے، جسٹس آغا فیصل نے کہا جو درخواست آپ نے دی ہے اس میں فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہرگز برداشت نہیں، وزیراعلیٰ خود نگرانی کر رہی ہیں: عظمیٰ بخاری
فاروق ستار کا بیان
بعد ازاں فاروق ستار نے گفتگو میں کہا کہ ہمارے پاس کچھ شواہد اور ثبوت ہیں، مجرمانہ غفلت اور اختیارات کا ناجائز مادپدر استعمال بھی ہے، اس عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں۔ گل پلازہ میں تعمیراتی بے ضابطگی پر افسران کے خلاف مقدمہ بھی بنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی
عدالتی کمیشن کی معاونت
فاروق ستار نے کہا کہ ہم عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے آئے ہیں، ایم کیو ایم ایک جماعت کے طور پر فریق بن سکتی ہے، ہماری دستاویزات میں مضبوط شواہد و ثبوت ہیں، ہم نے ای میل کے ذریعے کمیشن میں پٹیشن دی، ہمیں بتایا گیا کہ آپ کی پٹیشن ہماری ضرورت کے مطابق نہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ آج دوپہر تین بجے تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سینکڑوں اساتذہ کے غیر حاضر ہونے کا انکشاف
ایس ایس پی ٹریفک کا بیان
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔
یہ بھی پڑھیں: 62 سالہ اداکارہ دنیا کی سب سے خوبصورت خاتون قرار
پولیس کی کاروائی
ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو پاکستان کا دورہ کریں گے، وزارت خارجہ
بچوں کا بیان
انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اعجاز شیخ کا کہنا تھا کہ بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کے وزیر خارجہ 2 روزہ دورہ پر آج پاکستان پہنچیں گے
آگ لگنے کی وجوہات
ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا، بلاول بھٹو زرداری
کمیشن کے سوالات
کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پنجاب کی ایئر لائن ایئر پنجاب کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا
ایسوسی ایشن کی ذمہ داری
دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا، وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل شیخ وقاص اکرم کے گھر پر پولیس کا چھاپہ
ریسکیو کی صورتحال
ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی۔
کمیشن کی کارروائی کا اختتام
بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے کارروائی 25 فروری تک ملتوی کردی۔








