ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد
ایم کیو ایم کی درخواست مسترد
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست کو کمیشن نے مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: قوم کو یقین دلاتا ہوں اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل
کمیشن کی سماعت میں ایم کیو ایم کے نمائندے
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پیر کو جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے موقع پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، نسرین جلیل و دیگر بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کمیشن کے سربراہ سے استدعا کی کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ پاکستان کی فتح ہے، جو بھی جذبات مجروح ہوئے ہیں اب ٹیم کارکردگی دکھائے، رمیز راجہ
کمیشن کے سربراہ کا جواب
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ کے آنے کی خوشی ہے لیکن ابھی کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، آپ تشریف رکھیں۔ ہم فی الحال معذرت چاہتے ہیں، ابھی کمیشن کی سماعت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کب تک لوڈشیڈنگ فری ہو جائے گا؟ کے الیکٹرک حکام نے بتادیا
درخواست کا معاملہ
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں، جس پر طارق منصور ایڈووکیٹ نے بتایا کہ میری جانب سے درخواست پہلے ہی دائر کردی گئی ہے، جسٹس آغا فیصل نے کہا جو درخواست آپ نے دی ہے اس میں فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی اجتماعی سزا سے کشمیری متنفر ہوجائیں گے: وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر
فاروق ستار کا بیان
بعد ازاں فاروق ستار نے گفتگو میں کہا کہ ہمارے پاس کچھ شواہد اور ثبوت ہیں، مجرمانہ غفلت اور اختیارات کا ناجائز مادپدر استعمال بھی ہے، اس عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں۔ گل پلازہ میں تعمیراتی بے ضابطگی پر افسران کے خلاف مقدمہ بھی بنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ اور سکھر میں پی ایم وائی پی-لاہور قلندرز ٹیلنٹ ہنٹ: 15 ہزار سے زائد نوجوانوں کی شرکت
عدالتی کمیشن کی معاونت
فاروق ستار نے کہا کہ ہم عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے آئے ہیں، ایم کیو ایم ایک جماعت کے طور پر فریق بن سکتی ہے، ہماری دستاویزات میں مضبوط شواہد و ثبوت ہیں، ہم نے ای میل کے ذریعے کمیشن میں پٹیشن دی، ہمیں بتایا گیا کہ آپ کی پٹیشن ہماری ضرورت کے مطابق نہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ آج دوپہر تین بجے تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ، فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا،3400 ارب روپے کھا گئی: حافظ نعیم الرحمان
ایس ایس پی ٹریفک کا بیان
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا لاہور سے پیرس کیلیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
پولیس کی کاروائی
ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ پہلے جواب جمع کرائیں، سندھ ہائیکورٹ کا26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر ڈپٹی اٹارن جنرل کو 3ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم
بچوں کا بیان
انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اعجاز شیخ کا کہنا تھا کہ بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے، گھروں کو نقصان
آگ لگنے کی وجوہات
ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال پر بجلی کی قیمتوں میں کمی کا امکان
کمیشن کے سوالات
کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نابینا شخص کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے شادی کرنے والی 20 سالہ لڑکی کو اب اپنے شوہر کے لیے دوسری بیوی کی تلاش
ایسوسی ایشن کی ذمہ داری
دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا، وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت، چالان سکروٹنی کے بعد عدالت میں جمع
ریسکیو کی صورتحال
ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی۔
کمیشن کی کارروائی کا اختتام
بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے کارروائی 25 فروری تک ملتوی کردی۔








