اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا، چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔ ابا جی کہا کرتے تھے جو وقت پر کام ختم نہیں کرتا اسے یا تو کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 448
یہ بھی پڑھیں: افواجِ پاکستان دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں: سیکیورٹی ذرائع
اجلاس کا آغاز
بات بگڑ گئی؛ شروع میں سیکرٹری بلدیات کے دفتر ان کمپنیوں کے باقاعدہ اجلاس ہوتے تھے۔ افضل کھوکھر صدارت کرتے جبکہ جواد رفیق سیکرٹری بلدیات بھی شرکت کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے فوجی برتری حاصل کی، امریکی کانگریس کی رپورٹ میں اعتراف
آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
ایسے ہی ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پینے کے پانی، شامیانے، کھرلیاں، پارکنگ وغیرہ جیسی سہولیات آؤٹ سورس کی جائیں۔ بیچارے "ازفر ضیاء" ڈایریکٹر ملتان نے اگلی میٹنگ سے پہلے ان سہولیات کو آؤٹ سورس کر کے میٹنگ میں اس فخر کے ساتھ شریک ہوا کہ اس کو پذیرائی ملے گی مگر اس کی سخت سرزنش ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جیل حکام نے عمران خان کے لیے سردیوں کا سامان وصول کرنے سے انکار کردیا ہے، سمیع ابراہیم
ازفر ضیاء کی ستم ظریفی
وجہ یہ تھی کہ افضل کھوکھر نے سخت الفاظ میں اُس پر چڑھائی کر دی کہ پرانے ٹھیکے داروں کو ہی ملی بھگت سے یہ سہولتیں آؤٹ سورس کی گئی تھیں۔ کھوکھر نے یہ بھی کہا؛ "آؤٹ سورس کرنے کا کہا کس نے تھا؟" بیچارہ ازفر کہتا ہی رہ گیا کہ پچھلی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا مگر اُس کی کسی نے نہ سنی۔ میں نے بولنا چاہا مگر مجھے گل صاحب نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کیلئے تیار ہوں، آئیں الیکشن اصلاحات، فنڈز کی تقسیم پر بات کریں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ’’پیشکش ‘‘
معطلی کی حقیقت
نتیجہ یہ ہوا کہ سیکرٹری بلدیات نے ازفر ضیاء کو معطل کر دیا حالانکہ سیکرٹری بلدیات جانتے تھے کہ ایسا کرنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔ شاید یہ دور ہاں میں ہاں ہی ملانے کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے سری لنکا کے خلاف پہلے ون ڈے میں سلو اوور ریٹ پر پاکستان ٹیم پر جرمانہ کردیا
فرد کی محنت
دوران سروس میں کبھی بھی دفتر کا کام گھر لے کر نہیں گیا اور نہ ہی دفتری اوقات کے بعد دفتر بیٹھا۔ ماسوائے ان خاص حالات کے جب مصروفیات تقاضہ کرتی مثلاً الیکشن، سیلاب، وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک کتنے خاندان مستفید ہو چکے ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئی۔
دفتر کے مخصوص واقعات
جب میں ہیڈ کواٹرز پوسٹڈ تھا تو کئی ڈائریکٹر جنرل گرمی کے دنوں میں شام گئے تک دفتر بیٹھے رہتے اور سرکاری اے سی اور سرکاری entertainment سے لطف اٹھاتے۔ کمشنر گوجرانوالہ بھی دیر تک دفتر رہتے اور ان کے ساتھ ہیڈ کوارٹرز کے باقی افسران بھی۔ لیکن اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا کہ بس چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی رافیل طیارے گرائے جانے کے بعد جے 10سی بنانے والی چینی کمپنی کے شیئرز میں کتنا اضافہ ہوا؟ شاندار خبر
افسران کی مخصوص گفتگو
ایک بار کمشنر گوجرانوالہ شمائیل خواجہ کہنے لگے؛ "یار! میں دفتر بیٹھا ہوتا ہوں اور تم چلے جاتے ہو۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! بڑے افسر جب تک چاہیں دفتر لگائے رکھیں۔ چھوٹے افسر کام ختم اور پھر فیملی ٹائم شروع۔" ویسے سر! میرے ابا جی کہا کرتے تھے جو شخص وقت پر کام ختم نہیں کرتا اس کی دو ہی وجوہات ہیں یا تو اسے کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔ وہ مسکرا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: آٹے کی قیمت میں اضافہ، گھی سستا ہو گیا
سیکھنے کا عمل
نوکری نے مجھے تیسرے قسم کے افسر کا بھی پتہ بتا دیا تھا جو دفتری اوقات کے بعد "لین دین" کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث اندرون و بیرون ملک 8پروازیں منسوخ
پی اے کی بات
ایک تبادلے کی فائل لے کر کمشنر کے پاس گیا۔ میں اپنے پی اے شہزاد شاہ سے کہہ رہا تھا کہ اس میں ٹرانسفر ہونے والے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری بھی لف کر دے۔ رمضان کا مہینہ تھا، کچھ روزہ لگا ہوا تھا اور کچھ تھکا ہوا بھی تھا کہنے لگا؛ "سر! ایسے ہی لے جائیں تھک گیا ہوں۔" میں فائل لے گیا۔ یہ میری حماقت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹوبہ ٹیک سنگھ: تیز رفتار بس اور رکشے میں تصادم، 6 افراد جاں بحق، زخمیوں کی حالت تشویشناک
شرمندگی کا لمحہ
فائل کمشنر کو دکھائی۔ بولے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری نہیں لگائی۔ میں نے پی اے والی بات ہی بات دی؛ کہنے لگے؛ "تم پی اے کے کہنے پر چلتے ہو۔" میری اس حماقت نے مجھے شرمندہ کر دیا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








