اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا، چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔ ابا جی کہا کرتے تھے جو وقت پر کام ختم نہیں کرتا اسے یا تو کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 448
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ گئی
اجلاس کا آغاز
بات بگڑ گئی؛ شروع میں سیکرٹری بلدیات کے دفتر ان کمپنیوں کے باقاعدہ اجلاس ہوتے تھے۔ افضل کھوکھر صدارت کرتے جبکہ جواد رفیق سیکرٹری بلدیات بھی شرکت کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی تاریخ میں پہلی بار سونا 4 لاکھ 3 ہزار 600 روپے فی تولہ ہو گیا
آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
ایسے ہی ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پینے کے پانی، شامیانے، کھرلیاں، پارکنگ وغیرہ جیسی سہولیات آؤٹ سورس کی جائیں۔ بیچارے "ازفر ضیاء" ڈایریکٹر ملتان نے اگلی میٹنگ سے پہلے ان سہولیات کو آؤٹ سورس کر کے میٹنگ میں اس فخر کے ساتھ شریک ہوا کہ اس کو پذیرائی ملے گی مگر اس کی سخت سرزنش ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
ازفر ضیاء کی ستم ظریفی
وجہ یہ تھی کہ افضل کھوکھر نے سخت الفاظ میں اُس پر چڑھائی کر دی کہ پرانے ٹھیکے داروں کو ہی ملی بھگت سے یہ سہولتیں آؤٹ سورس کی گئی تھیں۔ کھوکھر نے یہ بھی کہا؛ "آؤٹ سورس کرنے کا کہا کس نے تھا؟" بیچارہ ازفر کہتا ہی رہ گیا کہ پچھلی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا مگر اُس کی کسی نے نہ سنی۔ میں نے بولنا چاہا مگر مجھے گل صاحب نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عراق میں امریکی جہاز کو پیش آنیوالے حادثے میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ سینٹکام نے بتا دیا
معطلی کی حقیقت
نتیجہ یہ ہوا کہ سیکرٹری بلدیات نے ازفر ضیاء کو معطل کر دیا حالانکہ سیکرٹری بلدیات جانتے تھے کہ ایسا کرنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔ شاید یہ دور ہاں میں ہاں ہی ملانے کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران کی قیادت آج اسلام آباد میں مذاکرات کرے گی، خطے میں اب جنگ کی نہیں امن کی باتیں ہو رہی ہیں، شہباز شریف
فرد کی محنت
دوران سروس میں کبھی بھی دفتر کا کام گھر لے کر نہیں گیا اور نہ ہی دفتری اوقات کے بعد دفتر بیٹھا۔ ماسوائے ان خاص حالات کے جب مصروفیات تقاضہ کرتی مثلاً الیکشن، سیلاب، وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیں: کامیابی کا ایک فن یہ بھی ہے کہ آپ مٹھی گرم کرنے کے طریقوں سے واقفیت رکھتے ہوں، شاید یہ رواج ہے کہ مراعات اس ملک سے لو اور دیار غیر میں جا بسو
دفتر کے مخصوص واقعات
جب میں ہیڈ کواٹرز پوسٹڈ تھا تو کئی ڈائریکٹر جنرل گرمی کے دنوں میں شام گئے تک دفتر بیٹھے رہتے اور سرکاری اے سی اور سرکاری entertainment سے لطف اٹھاتے۔ کمشنر گوجرانوالہ بھی دیر تک دفتر رہتے اور ان کے ساتھ ہیڈ کوارٹرز کے باقی افسران بھی۔ لیکن اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا کہ بس چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ نے افغانستان سمیت 4 ممالک پر ویزا پابندیاں عائد کردیں
افسران کی مخصوص گفتگو
ایک بار کمشنر گوجرانوالہ شمائیل خواجہ کہنے لگے؛ "یار! میں دفتر بیٹھا ہوتا ہوں اور تم چلے جاتے ہو۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! بڑے افسر جب تک چاہیں دفتر لگائے رکھیں۔ چھوٹے افسر کام ختم اور پھر فیملی ٹائم شروع۔" ویسے سر! میرے ابا جی کہا کرتے تھے جو شخص وقت پر کام ختم نہیں کرتا اس کی دو ہی وجوہات ہیں یا تو اسے کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔ وہ مسکرا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی اور امریکی سفیروں کو نکالنے والے ممالک آبنائے ہرمز استعمال کر سکیں گے
سیکھنے کا عمل
نوکری نے مجھے تیسرے قسم کے افسر کا بھی پتہ بتا دیا تھا جو دفتری اوقات کے بعد "لین دین" کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں نمبر گیم دلچسپ مرحلے میں داخل، حکمران اتحاد 2 ووٹ سے محروم
پی اے کی بات
ایک تبادلے کی فائل لے کر کمشنر کے پاس گیا۔ میں اپنے پی اے شہزاد شاہ سے کہہ رہا تھا کہ اس میں ٹرانسفر ہونے والے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری بھی لف کر دے۔ رمضان کا مہینہ تھا، کچھ روزہ لگا ہوا تھا اور کچھ تھکا ہوا بھی تھا کہنے لگا؛ "سر! ایسے ہی لے جائیں تھک گیا ہوں۔" میں فائل لے گیا۔ یہ میری حماقت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: Israel Strikes Beirut Again with Powerful Air Bombs
شرمندگی کا لمحہ
فائل کمشنر کو دکھائی۔ بولے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری نہیں لگائی۔ میں نے پی اے والی بات ہی بات دی؛ کہنے لگے؛ "تم پی اے کے کہنے پر چلتے ہو۔" میری اس حماقت نے مجھے شرمندہ کر دیا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








