افغانستان کو بتایا تھا کہ دہشت گرد اور پاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغانستان کو بات سمجھ نہیں آئی تو ردعمل دیا گیا، رانا ثنا اللہ
سیاسی امور پر رانا ثنااللہ کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ افغانستان کو بتا دیا تھا کہ وہ دہشت گردوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ اگر افغانستان کو یہ بات سمجھ نہیں آئی تو ہم نے ردعمل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: موٹر وے پر بس اور مسافر وین کے تصادم میں 5 افراد ہلاک
دہشت گردی کے خلاف پالیسی
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جو پالیسی آج اپنائی گئی ہے، اسے پہلے اپنانا چاہیے تھا۔ اگر یہ پالیسی چند سال قبل اپنائی جاتی تو دہشت گردی کا نام و نشان نہ رہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے 4 ماہ قبل افغانستان کو یہ پیغام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن میں بہن کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، قرآن کے حکم سے کیسے انکاری ہو سکتے ہیں، سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کردی
افغانستان کی ناکامی
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جب بھی دہشت گرد افغانستان سے پاکستان پر حملے کریں گے، ہم جواب دیں گے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں کھدائی کے دوران 4 مزدور جاں بحق، وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
عمران خان کی طبی صورتحال
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے متعلق واضح کیا کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی ڈھیل ہے اور نہ ہی کوئی ڈیل۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بہترین علاج ہو چکا ہے، اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا جائزہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ برس سونے کی قیمت کہاں پہنچے گی؟ امارات کے ماہرین کی بڑی پیشگوئی
سیاسی مذاکرات کی ضرورت
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اُس وقت بھی کوششیں کیں جب آپ اقتدار میں تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں اور میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمارے ساتھ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسلسل مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں۔
جمہوری عمل کی اہمیت
دھشت گردی کے خلاف اقدامات کو بھرپور طور پر سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے، اور جمہوریت کو مذاکرات سے آگے بڑھنے دیا جائے، نہ کہ ڈیڈلاک کا شکار ہونے دیا جائے۔








