جائیداد کی ملکیت سے متعلق کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے، گھروں کو نقصان
تحریری فیصلہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پوسٹس پر کمنٹ کرنے کے باعث دو پڑوسیوں میں جھگڑا
محتسب کی حیثیت
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، اس لیے وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع نہیں کر سکتا۔ محتسب ایک نیم عدالتی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سرجانی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرگئی، بچی جاں بحق، 7افراد زخمی
خیبر پختونخوا حکومت کا موقف
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لئے اسے اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1797 پوائنٹس کی کمی
جائیداد کے اصل دعویدار
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا قانونی حق متاثر نہیں ہوگا۔
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تھا، صوبہ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت کیس کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا.








