افغانستان میں فضائی کارروائی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا ، ہم یہ جنگ دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں، طلال چودھری
وزیر مملکت برائے داخلہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان میں فضائی کارروائی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا۔ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ہیں اور ان کے نام بھی سامنے آچکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو وہاں تربیت لیتے اور پاکستان پر حملے کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے جوڈیشل کمیشن کا حصہ بننے کی منظوری دے دی
دہشت گردوں کی تربیت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں ہلاک دہشت گرد ہمارے لوگوں کو مارنے کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔ ہم یہ جنگ دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان میں دہشت گردی کر کے خفیہ طریقے سے واپس چلے جائیں اور دوبارہ تربیت لے کر پاکستان پر حملہ آور ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
دہشت گردی کی وسعت
اگر کسی جگہ عام شہری مارے گئے ہیں تو پاکستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہماری ہیں۔ ایک ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کے لئے فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سوالات اور جوابات
سوال: افغانستان میں 13 عام شہری مارے گئے، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟
جواب: "یہ جنگ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا اور حملہ آوروں کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو وہاں تربیت لیتے اور پاکستان پر حملے کرتے تھے۔ ہمارے لوگوں کو… pic.twitter.com/uexeSveODz
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) February 24, 2026








