سیاسی سفارشات کو انہوں نے اپنے حساب سے پہلے ہی ایڈجسٹ کر لیا تھا، ہر سیاست دان اپنی مرضی کی ہی یونین کونسل بنوانا چاہتا تھا جو ممکن ہی نہ تھا۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 449
حلقہ بندی: 2014ء
یہ بھی پڑھیں: کشمیر ی پاک فوج کو اپنا محافظ تصور کرتے ہیں، پاکستان کے بھارت کو منہ توڑ جواب پر حریت کانفرنس کا ردعمل
حکومتی احکامات
حکومت نے 2014ء میں بلدیاتی ادروں کے انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں کرانے حکم جاری کیا۔ ہمیشہ کی طرح ڈی سی او حلقہ بندی کے افسر نوٹیفائی ہوئے اور تمام اے سی صاحبان ان کے اسسٹنٹ۔ ذمہ داری اور قائدے کے مطابق یہ مقامی حکومت کے افسروں کا کام ہونا چاہیے لیکن ہم ضلعی انتظامیہ کو ہرفن مولا سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جوابی کارروائی ضرور کرے گا، لیکن یہ کارروائی کیا ہوگی اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے، لیفٹیننٹ جنرل مارک سی شوارٹز
حلقہ بندی کا آغاز
کمشنر ان حلقہ بندیوں کے خلاف اپیل سننے کی اتھارٹی تھے جن کی مد و معاونت بحیثیت ڈایریکٹر مقامی حکومت میری ذمہ داری تھی۔ جیسے ہی حلقہ بندی کے رولز جاری ہوئے، حلقہ بندی کے کام کا آغاز بھی ہو گیا۔ میں نے تمام ڈی سی صاحبان اور ان کے معاونین کو ان رولز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی طبعیت خراب ہو گئی
نسخہ جات اور سماعتیں
خاقان چیمہ (اے ڈی ایل جی گوجرانوالہ) میرا معاون تھا، جو سمجھ دار، ہنس مکھ اور دوستدار افسر تھا۔ حلقہ بندی کی ابتدائی لسٹ جاری ہوئی اور جنرل پبلک کے لئے آویزاں کر دی گئیں۔ ان کے خلاف لوگوں کے اعتراضات اور تجاویز وصول کئے گئے اور کمشنر کے behalf پر میں نے ضلع وایز سماعت کی تاریخیں جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے
ضلعی افسران کی جانچ
گوجرانوالہ کے ڈی سی او عظمت سلطان سمجھ دار اور دبنگ سی ایس پی افسر تھے۔ ہنس مکھ، دوستدار اور سیانے سی ایس پی افسر آصف بلال لودھی گجرات کے ڈی سی او تھے۔ سیالکوٹ کے ڈی سی او افتخار احمد ساہو، خوش پوش پی سی س افسر منصور قادر حافظ آباد میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیج اداکارہ سے 3 افراد کی مبینہ اجتماعی زیادتی ، متاثرہ ہسپتال منتقل
سماعتوں کا انتظام
ہر ضلع کی سماعت کے لئے علیٰحدہ دن مختص تھا، جبکہ بڑا ضلع ہونے کی وجہ سے گوجرانوالہ کے لئے 2 دن مقرر تھے۔ کمشنر قانونی آدمی تھے، قانون کی ڈگری بھی لے رکھی تھی اور سروس جوائن کرنے سے پہلے ان کی وکالت بھی خوب تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا ریلوے کو ریٹائرڈ ملازمین کے لیے گریجویٹی اور رہائش کی رقم جاری کرنے کا حکم
سماعتوں کے بارے میں معلومات
مجھے عدالت میں کمشنر کی معاونت کرنی تھی اور میری معاونت میرے اے ڈی ایل جیز نے۔ اپیلوں کی سماعت سے پہلے ہی ایم این ایز اور ایم پی ایز کی حلقہ بندی کے حوالے سے سفارشیں آنے لگیں تھیں۔
سیاسی سفارشات کا اثر
کمشنر نے سید ظاہر شاہ ایم این اے اور منشا بٹ ایم پی اے و صوبائی وزیر بلدیات کی سفارشوں کے علاوہ باقی کسی بھی سفارش کو زیر غور ہی نہیں لائے تھے۔ متعلقہ ڈی سی او کی جو تجویز ہوتی اسے ہی اہمیت دیتے تھے۔
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








