بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -1
بیوروکریسی میں طاقتور افسران اور ان کی حرکتیں
اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد "رِمل شاہ" بن جائیں گے۔ یہ وہ موضوع ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا، جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے ملاقات میں کونسا شعر سنایا؟ وکیل شعیب شاہین نے بتا دیا.
سماجی کارکنان کے ساتھ طاقتور افسران کی چالاکیاں
ایک گالی۔۔۔بیٹی چ ود۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطلب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔ پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سینئر افسر کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔
مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی، اگلا تمہیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے فیصد پاکستانی جنگ کے دوران حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ گیلپ پاکستان کا نیا سروے جاری
بیوروکریٹ کے نیفے اور اخلاقی کرپشن
میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کے لیے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔ پارٹی، پلائی اور سپلائی یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔
پولیس افسران سر فہرست ہیں، اور یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسمان پر بیک وقت 2 سورج نمودار ہونے کا منظر، شہری حیران
زبان کا غلط استعمال اور جنسی ہراسانی کی حقیقت
جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔
سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم میں تکنیکی غلطی، قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ترمیم واپس سینیٹ جانے کا امکان
آواز اٹھانے کی ضرورت
یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں، ہر افسر کو معلوم ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتا ہے۔
میں انکو بچانا چاہتا ہوں، اس لیے میں ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔
نتیجہ
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








