ثاقب فیاض مگوں کا ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں مجوزہ بل پر تنقید، نظرثانی کا مطالبہ کردیا
تشویش کی آواز
اسلام آباد (ویب ڈیسک) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر اور بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں پیش کیے گئے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز (ٹی او آرز) 2013 میں مجوزہ ترامیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری اور براہموس سٹوریج سائٹ نگروٹا کو بھی تباہ کر دیا گیا
غیر متوازن تبدیلیوں کا خطرہ
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ فریم ورک میں کسی بھی اچانک اور غیر متوازن تبدیلی کے نتیجے میں ملک بھر کی متعدد نمائندہ تجارتی تنظیمیں بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ اقدام نے تاجر برادری میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ ملکی معیشت پہلے ہی اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری سے ملاقات نہ ہونے پر شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
چیمبرز کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری طبقے کا سب سے مؤثر اور بنیادی پلیٹ فارم ہیں جہاں سے تاجر برادری اجتماعی طور پر اپنے مسائل اجاگر کرتی اور پالیسی سازی کے عمل میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر تجارتی تنظیموں کو صرف میونسپل سٹی کی حدود تک محدود کر دیا گیا تو صنعتی اسٹیٹس، تحصیلوں میں قائم ایس ایم ای کلسٹرز اور دیہی برآمدی کاروبار مناسب نمائندگی سے محروم ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گھر، فلیٹ، پلاٹ کی خریداری اور تعمیر کے لیے ‘میرا گھر میرا آشیانہ’ اسکیم شروع کردی
اداری ترقی کا خطرہ
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترامیم نہ صرف ضلعی چیمبرز کے وجود کو خطرے میں ڈال دیں گی بلکہ برسوں کی ادارہ جاتی ترقی کو بھی نقصان پہنچائیں گی۔
منفی اثرات اور خواتین کاروباری شخصیات
انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات مقامی معیشتوں پر مرتب ہوں گے اور بالخصوص خواتین کاروباری شخصیات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار شدید متاثر ہوں گے۔ثاقب فیاض مگوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ترامیم پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور ضلعی چیمبرز کے تسلسل اور تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ یہی ادارے نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کی حقیقی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔








