پاکستان کو 10 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے موصول، یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رول اوور پر ابہام برقرار
پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کو 10 ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی قرضے موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے نصف رقم نئی ادائیگیوں کی صورت میں ہے جبکہ باقی رقم موجودہ قرضوں کے رول اوور پر مشتمل ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2 ارب ڈالر کے رول اوور کی صورتحال تاحال واضح نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے درکار سطح کے قریب یورینیئم افزودہ کرلیا، آئی اے ای اے
حکومتی قرضوں کا تجزیہ
ٹریبیون کے مطابق وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ جولائی سے جنوری میں 5 ارب 10 کروڑ ڈالر کے تازہ قرضے ملے، جبکہ سعودی عرب، چین اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کے قرضے جاری یا موجودہ قرضوں کو رول اوور کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ضلع کچہری اسلام آباد میں خودکش دھماکے پر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی
بیرونی قرضوں کا ریکارڈ
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں کے اعداد و شمار ایک ہی جگہ درج نہیں ہوتے، وزارتِ اقتصادی امور اور اسٹیٹ بینک قرضوں کی نوعیت کے مطابق الگ الگ تفصیلات جاری کرتے ہیں۔ قرضوں کے بلیٹن اور اسٹیٹ بینک کے اعلان کے مطابق جولائی تا جنوری مجموعی قرضہ وصولیوں اور رول اوور کی مالیت 10 ارب 10 کروڑ ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1 ارب 40 کروڑ ڈالر کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں ایف سی قلعہ پر کوڈ کاپٹر سے حملہ، 7 اہلکار زخمی، زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر بھی فائرنگ، سرچ آپریشن شروع
یو اے ای کے قرضے کی صورتحال
کم ادائیگی کی بڑی وجہ یو اے ای کے 2 ارب ڈالر کے قرضے کا معاملہ بتایا جا رہا ہے، جو جنوری میں میچور ہوا اور بعد ازاں اس ماہ دوبارہ واجب الادا ہوا، تاہم اسٹیٹ بینک نے روایت کے برعکس اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور، لڑکی کی لاش قبر سے نکال کر کھیتوں میں پھینک دی گئی
سعودی عرب اور چین کے تعاون
اس کے برعکس دسمبر میں اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت ایک سال کے لیے بڑھا دی ہے، جو 2021 سے مسلسل رول اوور ہو رہا ہے۔ چین نے بھی رواں مالی سال کے دوران 1 ارب ڈالر کا کیش ڈپازٹ ایک سال کے لیے بڑھایا، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1 ارب ڈالر کی قسط بھی موصول ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بابے کے بال لمبے، رنگ سانولا، چہرہ بے نور، آنکھیں سرخ، ہونٹ بڑے رہے تھے، لمحوں کی خاموشی کے بعد کڑک دار آواز سنائی دی “بندش ہے بچہ”
مجموعی تخمینہ
حکومت اور اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے 25 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی رقوم (تازہ قرضے اور رول اوور) کی آمد کا تخمینہ لگایا ہے۔ پاکستان اس وقت بھی 12 ارب 50 کروڑ ڈالر کے میچور ہونے والے کیش ڈپازٹس کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی قرضوں اور رول اوور پر انحصار کر رہا ہے۔
ادائیگیوں کا تناسب
جولائی تا جنوری کے دوران ہونے والی ادائیگیاں اور رول اوور سالانہ تخمینے کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ عالمی قرض دہندگان رواں مالی سال میں 12 ارب 50 کروڑ ڈالر کے کیش ڈپازٹس رول اوور کریں گے، کیونکہ 16 ارب ڈالر کے محدود زرمبادلہ ذخائر کے باعث قرض کی واپسی ممکن نہیں۔ ان ذخائر میں کیش ڈپازٹس شامل ہیں، جس سے خالص ذخائر منفی بتائے جا رہے ہیں۔








