لاہور ہائیکورٹ: بھارتی شہری کی درخواست پر اٹارنی مقرر کرنے پر دلائل طلب
لاہور ہائیکورٹ میں بھارتی شہری کی درخواست
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بھارتی شہری کرنیل سنگھ کی جانب سے اپنی اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کے خلاف دائر درخواست پر بطور اعتراض سماعت ہوئی۔ عدالت نے بھارتی شہری کی جانب سے پاکستانی شہری کو اٹارنی مقرر کرنے کے قانونی نکتے پر دلائل طلب کر لیے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے 6 اہلکاروں کوکیوں برطرف کیا گیا ؟ وجہ جانیے
جسٹس فاروق حیدر کی سماعت
جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ نواز شیخ اور ایڈووکیٹ علی چنگیزی سندھو پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کرنیل سنگھ نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو نمائندہ مقرر کر کے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025 کو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: انوشکا شرما کی 7 سال بعد فلموں میں واپسی، فلم کی تفصیلات سامنے آگئیں
درخواست میں اہم نکات
درخواست میں کہا گیا کہ اہلیہ کو قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے جبری طور پر مسلمان کیا گیا جبکہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی۔ رجسٹرار آفس نے سپیشل پاور آف اٹارنی کی محکمہ خارجہ سے تصدیق نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کا وقت ختم، اب پتنگ بازی پر سخت ایکشن ہوگا: عظمیٰ بخاری
عدالت کے ریمارکس
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ بھارتی شہری کس طرح پاکستان میں اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا ہے، اس پر پاکستانی قوانین کے مطابق دلائل دیے جائیں۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عالمی انسانی حقوق کنونشن کے تحت یہ ممکن ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اسے پاکستانی قوانین کے تناظر میں معاونت درکار ہے۔
سماعت کا فیصلہ
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مہلت دیتے ہوئے سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی۔








