پاکستانی بلے باز سدرہ امین کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر آئی سی سی کی جانب سے سرزنش کا سامنا
سدرہ امین کو آئی سی سی کی جانب سے سرزنش
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ویمن ٹیم کی بلے باز سدرہ امین کو جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر آئی سی سی کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں، 40 لاکھ غذائی قلت کا شکار
خلاف ورزی کی تفصیلات
آئی سی سی اعلامیے کے مطابق بلوم فونٹین میں کھیلے گئے میچ میں سدرہ امین نے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کے لیے مقررہ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی کی، جو میچ کے دوران کرکٹ سامان یا گراؤنڈ کے آلات کے ساتھ نامناسب رویے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کے استعفے جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں: سعد رفیق
واقعے کی وجوہات
واقعہ پاکستان کی اننگز کے 24ویں اوور میں پیش آیا جب آؤٹ ہونے کے بعد سدرہ نے غصے میں اپنا بلا زمین پر دے مارا۔ اس حرکت پر انہیں آفیشل سرزنش کے ساتھ ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خانم بانی کی بہن ہیں، ان کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے: سہیل آفریدی
سابقہ خلاف ورزی اور سزا
گزشتہ 24 ماہ کے دوران یہ ان کی دوسری خلاف ورزی ہے، جس کے بعد ان کے مجموعی ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اس سے قبل انہیں آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ 2025 میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران بھی اسی نوعیت کی خلاف ورزی پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا。
خطا تسلیم کرنا
سدرہ امین نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے میچ ریفری کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی، جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔








