پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول بغیر پیمنٹ اٹھائے جانے کا انکشاف
اسلام آباد میں چاول کی غیر قانونی ترسیل کا انکشاف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ایک رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول بغیر پیمنٹ اٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبد الحق ثانی کی وفد کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے منصورہ میں تفصیلی ملاقات
اجلاس کا پس منظر
معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں فنانس ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ دورانِ اجلاس ایک رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے چاول غیر قانونی طور پر اٹھانے کا معاملہ سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، اسحاق ڈار کا او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب
آڈٹ اعراض اور انتظامی ردعمل
آڈٹ اعراض میں بتایا گیا کہ بینک کے قرض دار نے ایک کروڑ 90 لاکھ کا چاول بغیر پیمنٹ کے اٹھایا۔ رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ یہ بہت ہی خطرناک معاملہ ہے جس پر سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ روپے واپس کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، پاکستان اور سری لنکا ون ڈے سیریز میں 5500 اہلکاروں نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی
چیئرمین کا سخت موقف
چیئرمین کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ بینک نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ آپ نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ پوری رات چاول لے جاتے رہے ہیں لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا۔ کمپنی کے خلاف آپ نے کیوں کارروائی نہیں کی؟ پوری رات اسٹاک لوڈ ہوتا رہا اور پولیس صبح آئی۔
مشکوک صورتحال اور کارروائی کا مطالبہ
سید نوید قمر نے کہا کہ مجھے تو یہ پورا معاملہ ہی مشکوک لگ رہا ہے۔ بینک کے صدر نے بتایا کہ کمپنی کو معطل کردیا گیا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ 15 دن میں کمپنی کے خلاف کارروائی سے آگاہ کریں۔








