علم کے ذریعے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا
مصنف:
رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، پی ٹی آئی رہنما شہریار ریاض کے گھر پولیس کا چھاپہ
اقسط:
318
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے پورا پاکستان متاثر ہورہاہے، وفاقی حکومت آپریشن لانچ کرنا چاہتی ہے تو صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے،شفیع جان
سیمینار کا انعقاد:
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام 25 فروری 2016ء کو ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ایک اور قدیم مسجد شہید کرنے کی تیاریاں، مسلمانون مشتعل ، پولیس سے جھڑپوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات
موضوع:
پاکستان میں رائج دہرے تہرے نظام تعلیم میں بہتری پیدا کرنے کے لیے تجاویز اور اقدامات
یہ بھی پڑھیں: تاریخ میں پہلی بار سموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب میں جدید ہتھیاروں کا استعمال شروع
سیمینار کی تفصیلات:
سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے "پاکستان میں رائج دہرے تہرے نظامِ تعلیم میں بہتری پیدا کرنے کے لیے تجاویز اور اقدامات" کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں میڈیا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم اور نامور شخصیات کی شرکت نے پروگرام کو چار چاند لگا دئیے۔ شرکاء نے پاکستان میں رائج نظامِ تعلیم کی ترویج و ترقی اور درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز سے بھی آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: 11 لاکھ آوٹ آف سکول بچوں کی انرولمنٹ کا منفرد ریکارڈ قائم
تعلیم کی اہمیت:
موضوع پر بات کرتے ہوئے پروفیسر نصیر چوہدری کا کہنا تھا کہ قوموں کی زندگی میں تعلیم اور علم حاصل کرنے کی اہمیت ناگزیر ہے۔ علم کے ذریعے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا بظاہر مشکل سہی لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چکن نگٹس گھر میں بنانے کا آسان طریقہ
پسماندگی اور ناخواندگی:
کسی بھی ملک کی پسماندگی، غربت اور کم تر بنیادی ضرورتِ زندگی کی ایک اہم وجہ ناخواندگی ہے۔ اکثر غریب ممالک اپنے محدود وسائل کی بدولت مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، خصوصاً ایسے ممالک جہاں 15 سال سے کم عمر بچے کُل آبادی کا 40 سے 46 فیصد ہوں۔ صرف 71 فیصد بچے پرائمری تعلیم کے لیے رجسٹر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت طالبان رجیم کی مدد کر رہا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے: صدر پاکستان
تعلیمی اخراجات:
ایک طرف تو پاکستان میں سرکاری تعلیمی اداروں پر کیے جانے والے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھاری فیسیں بھی ملک کے ہر شہری کے بس کی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام آدمی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا خواب دل ہی میں لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی پروموشن کا مقدمہ، یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی کی درخواست ضمانت منظور
تعلیمی اداروں کی تعداد:
اکنامک سروے آف پاکستان 20145ء کے مطابق ملک بھر میں کل 244,900 تعلیمی ادارے ہیں، جن میں سے 198,700 پرائمری، 43,200 مڈل اور 32,600 ہائی سکول، 6,000 انٹر کالجز، 1,000 ڈگری کالجز، 3,400 ٹیکنیکل ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اور 161 یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان میں 3 کروڑ 38 لاکھ 84 ہزار 800 طالب علم اور 15 لاکھ 77 ہزار اساتذہ کرام درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سحر حیات اور سمیع رشید کی راہیں جدا، طلاق کی تصدیق کر دی
تعلیمی اداروں کی حالت:
پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس 2007ء کے مطابق 2006ء میں پاکستان میں تعلیمی اداروں کی کل تعداد 245,603 تھی، جن میں سے 164,500 سرکاری اور 81,103 پرائیویٹ تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ سرکاری سکولوں میں 83.3 فیصد عمارتیں اپنی ملکیت میں تھیں جبکہ 5.7 فیصد کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں 41.1 فیصد کرائے کی عمارتوں میں اور 42.8 فیصد مالکان کی ذاتی عمارتوں میں قائم تھے۔ کل تعلیمی اداروں کی عمارات میں سے 51.6 فیصد صحیح حالت میں جبکہ 2.7 فیصد ایسی عمارتوں میں درس و تدریس کا عمل جاری رکھے ہوئے تھیں جنہیں کم یا زیادہ مرمت کی ضرورت اور 5.7 فیصد خطرناک یا مخدوش حالت میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ:
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








