ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری، حکام کو وسیع اختیارات حاصل
وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک ایکسچینج میں ایک اور ریکارڈ قائم،100انڈیکس 1لاکھ 5ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا
ٹیکس حکام کے اختیارات
روزنامہ جنگ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی جگہ چھاپہ مار سکتے ہیں، چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کوئی کیس چلنا ضروری نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ”چہرہ“ چھپانے کی کوشش کی ،مشرقی سرحد یا مغربی سرحد، ”نیونارمل“ اب پاکستان ”سیٹ“ کرے گا، افغانستان کا ”قبلہ“ بھی درست ہو جائے گا۔
عدالت کی دلیل
وفاقی آئینی عدالت نے بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل مسترد کر دی۔
عدلت کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کے لیے وسیع اختیارات دیئے ہیں، عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں لگا سکتی جو مقننہ نے نہیں لکھی۔ جہاں مقننہ کی زبان صریح اور غیر مبہم ہو، وہاں عدالتیں اس میں تخصیص، تخفیف یا تضاد پیدا کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 25 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
کمشنر کے فرائض
جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں کہا کہ کمشنر کو تحریری طور پر بتانا ہو گا کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر چھاپہ مارا جا رہا ہے، ٹیکس حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاؤنٹس قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔








