لاہور ہائی کورٹ کا سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے اور کوئی بھی ملازم اپنی مرضی کے اسٹیشن پر تعیناتی کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ
تبادلے کی مدت
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ محض آٹھ دن کے اندر تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں ہے، جب تک تبادلے میں انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: طلال چوہدری کو نوٹس جاری
تفصیلات اور عدالتی حکم
یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا، عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی، درخواست گزار نے تبادلے کے محض آٹھ دن بعد عدالت سے رجوع کیا تھا。
نئے قانون کا اثر
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد سابقہ قانون موثر نہیں رہا اور نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سیکیورٹی آف ٹینور کا کوئی تحفظ موجود نہیں لہٰذا محکمہ بلدیات کے ملازمین کسی مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا حق نہیں رکھتے۔








