سیف جیلز پراجیکٹ کا پہلا فیز 30 جون تک مکمل ہو جائے گا :چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان
پنجاب کی جیلوں کی اصلاحی مراکز میں تبدیلی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی پنجاب نے پنجاب کی جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کے مشن کے تحت ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات کا محکمہ داخلہ میں اہم اجلاس طلب کیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان نے کی، جس میں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن، ایڈیشنل سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: 400 رنز کا ریکارڈ نہ توڑنے پر برائن لارا نے ویان ملڈر سے کیا کہا؟
اجلاس کا ایجنڈا
اجلاس میں جوڈیشل کمپلیکس لاہور اور ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کی تعمیر پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیف جیل منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی جیلوں میں جدید کیمرے اور دیگر آلات کی انسٹالیشن پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے خلع لینے والی خاتون کو بھی حق مہر کا حقدار قرار دے دیا
سیف جیل منصوبے کی پیش رفت
چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان نے اس موقع پر کہا کہ سیف جیلز پراجیکٹ کا پہلا فیز 30 جون تک مکمل ہو جائے گا جس میں تمام سینٹرل جیلیں اور ریجنل دفاتر شامل ہیں۔ اسی طرح، دوسرے فیز کی تکمیل دسمبر تک متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خانیوال کچہری بازار کے کھلے سیوریج نالے میں 3 بچے گر گئے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا نوٹس
آن لائن ملاقات اور قیدیوں کی مصنوعات
اسیران سے ملاقات کے لئے "ملاقات ایپ" متعارف کروائی گئی ہے، جس کی مدد سے ہزاروں افراد نے آن لائن ملاقات کا فائدہ اٹھایا ہے۔ شہری اب گھر بیٹھے پنجاب بھر کی جیلوں میں ملاقات کی آن لائن بکنگ کر سکتے ہیں۔ جیل انڈسٹریز میں اسیران کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کا جدید نظام بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام پراڈکٹس پریزن ویب سائٹ اور دراز پر دستیاب ہیں۔
قیدیوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات
چیئرمین ٹاسک فورس نے ہدایت کی کہ تمام جیلوں میں قیدیوں کے سیل میں ایگزاسٹ فینز اور منرل واٹر کی سہولت فراہم کی جائے۔ قیدیوں کے لواحقین کی شکایات کا فوری ازالہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ پنجاب حکومت جیل ریفارمز کے تحت قیدیوں اور پریزن اسٹاف کی فلاح و بہبود کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔








