معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو عمران خان جو تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا، علی محمد خان
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم! پچھلے ہفتے دو ہفتے اندرون خانہ کیا بات ہوئی۔ مجھ سے کسی نے کوئی مشورہ نہیں کیا نہ پارٹی کے پارلیمینٹیرینز کو کسی نے اعتماد میں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بورڈ آف ریونیو نے گریڈ 17 اور 18 کے تمام افسروں سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
کنفیوژن اور فیصلے کی کمی
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ کون کانفرنس کال پہ تھا؟ کس نے کس کو کیا کہا؟ کون کس سے رابطہ میں تھا؟ کس نے کیا منع کیا؟ حکومت کتنی واقعی میں تیار تھی عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے میں؟ کچھ پتہ نہیں!
یہ بھی پڑھیں: قصور؛ دریائے ستلج کا پانی نواحی گاؤں ساندہ خانواہ میں داخل، معمر شخص ڈوب کر جاں بحق
علاج کی خاطر موقع کا ضیاع
بس ایک بات پہ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اگر واقعی کوئی راستہ بن رہا تھا کہ خان صاحب کو علاج کی خاطر اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کیا جاتا، اور اگر کنفیوژن یا بروقت عدم فیصلہ سازی یا اعتماد سازی کے فقدان یا ہٹ دھرمی کے باعث خدانخواستہ واقعی یہ موقع ضائع ہوگیا ہے، تو جانے یا انجانے میں خان صاحب کے ساتھ بہت زیادتی ہوگئی ہے، بہت ظلم ہوگیا ہے۔ قوم معاف نہیں کرے گی جس نے بھی یہ کیا ہے اور نہ ہم عمران خان کے ورکر معاف کریں گے۔
حکمت اور فیصلہ سازی کی ضرورت
علی محمد خان نے مزید کہا کہ اگر معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو میرا لیڈر جو یہ تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے، شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا۔ اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے کہ درست کیا ہے۔
نہیں معلوم!
پچھلے ہفتے دو ہفتے اندرون خانہ کیا بات ہوئی۔ مجھ سے کسی نے کوئی مشورہ نہیں کیا نہ پارٹی کے پارلیمینٹیرینز کو کسی نے اعتماد میں لیا۔
کون کانفرنس کال پہ تھا؟ کس نے کس کو کیا کہا؟ کون کس سے رابطہ میں تھا؟ کس نے کیا منع کیا؟ حکومت کتنی واقعی میں تیار تھی…— Ali Muhammad Khan (@Ali_MuhammadPTI) February 26, 2026








