ہم امن سے بات کر رہے تھے ، وہ بندوق سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آگے سے گولے سے بات ہوگی: مصدق ملک
وزیر کا بیان
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاک، افغان سرحد پر کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امن سے بات کر رہے تھے، وہ بندوق سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آگے سے گولے سے بات ہوگی۔ ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بچوں کو حج پر ساتھ لے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ جانئے
کشیدگی کی وجوہات
جیو نیوز کے مطابق پاک، افغان سرحد پر کشیدگی پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک امن سے بات ہو رہی تھی تو ہم امن سے بات کر رہے تھے۔ اب وہ بندوق سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آگے سے گولے سے بات ہوگی۔ ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے۔ افغانستان میں کٹھ پتلی معاملہ چل رہا ہے، ہم جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہے۔
آگے کا راستہ
افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے۔ گولی چلے گی اور جہاں سے گولی چلے گی تو جنگ وہاں ہوگی۔ ہم امن پسند قوم ہیں اور امن سے رہنا چاہتے ہیں، یہ شاید اس کو کمزوری سمجھتے ہیں۔ دشمن کی طرف سے فیک ویڈیوز چلائی جا رہی ہیں، یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر تو نہیں ہوگی۔








